شاعری

نذر فراق

اے دل کافر عجز سے منکر آج ترا سر خم کیوں ہے تیری ہٹیلی شریانوں میں یہ بے بس ماتم کیوں ہے آنکھ تو رونا بھول گئی تھی پھر ہر منظر نم کیوں ہے مت روکو بہنے دو آنسو کسی کو کرتے ہیں پرنام آپ جھکا ہے جھکنے دو سر چھپا تھا اس میں کوئی سلام شاید اس کے حضور میں ہو تم جس کو کہتے ہیں انجام وہ ہستی ...

مزید پڑھیے

میگھ دوت

سنسناہٹوں کے ساتھ گڑگڑاہٹوں کے ساتھ آ گیا! پون رتھ پہ بیٹھ کر میرا میگھ دیوتا دوش پر ہواؤں کے بال اڑاتا ہوا اس کا جامنی بدن آسماں پہ چھا گیا دور تک گرج ہوئی زمیں دہلنے لگی آسماں سمٹ گیا بڑی گھن گرج کے ساتھ ٹوٹ کر برس پڑا اور میں آنکھ موند کر ہاتھ پسارے ہوئے دوڑتی چلی گئی انگ سے لگا ...

مزید پڑھیے

عالم برزخ

یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاں اک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاں وہی تپتا ہوا گردوں وہی انگارا زمیں جا بہ جا تشنہ و آشفتہ وہی خاک نشیں شب گراں زیست گراں تر ہی تو کر جاتی تھی سود خوروں کی طرح در پہ سحر آتی تھی زیست کرنے کی مشقت ہی ہمیں کیا کم تھی مستزاد اس پہ پروہت کا جنون ...

مزید پڑھیے

ابد

یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہے یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے یہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سی گلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ...

مزید پڑھیے

انقلابی عورت

رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سال اک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بال پاپڑ جیسی ہوئیں ہڈیاں جلنے لگے ہیں دانت جگہ جگہ جھریوں سے بھر گئی سارے تن کی کھال دیکھ کے اپنا حال ہوا پھر اس کو بہت ملال ارے میں بڑھیا ہو جاؤں گی آیا نہ تھا خیال اس نے سوچا گر پھر سے مل جائے جوانی جس کو ...

مزید پڑھیے

اپنے دوست کے لیے

یہ زرد موسم کے خشک پتے ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤ تو سوچ لینا کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں زیاں گیا عرق شاخ گل کا کبھی یہ سرسبز کونپلیں تھے کبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہ بہت دنوں تک یہ سبز پتے ہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ...

مزید پڑھیے

جاپ

آ مرے اندر آ پوتر مہران کے پانی ٹھنڈے میٹھے مٹیالے پانی مٹیالے جیون رنگ جل دھو دے سارا کرودھ کپٹ شہروں کی دشاؤں کا سب چھل یوں سینچ مجھے کر دے میری مٹی جل تھل ترے تل کی کالی چکنی مٹی سے ماتھے پر تلک لگاؤں ہاتھ جوڑ ڈنڈوت کروں او من کے بھید سے گہرے ہولے ہولے سانس کھینچتے اوم سمان ...

مزید پڑھیے

تم بالکل ہم جیسے نکلے

تم بالکل ہم جیسے نکلے اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی آخر پہنچی دوار توہارے ارے بدھائی بہت بدھائی پریت دھرم کا ناچ رہا ہے قائم ہندو راج کرو گے سارے الٹے کاج کرو گے اپنا چمن تاراج کرو گے تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا پوری ہے ویسی تیاری کون ہے ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی بہشت سے جب اسے نکالا تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے تمام ادوار چھان ڈالو روایتوں میں حکایتوں میں ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے وہ وقت جب سے کہ آدمی نے خدا ...

مزید پڑھیے

مقابلۂ حسن

کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے سر میں بھی ہے جستجو کا جوہر تھا پارۂ دل بھی زیر پستاں لیکن مرا مول ہے جو ان پر گھبرا کے نہ یوں گریز پا ہو پیمائش میری ختم ہو جب اپنا بھی کوئی عضو ناپو!

مزید پڑھیے
صفحہ 687 سے 960