شاعری

غم نہ کر، غم نہ کر

درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر یار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کر زخم بھر جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر دن نکل آئے گا غم نہ کر، غم نہ کر ابر کھل جائے گا، رات ڈھل جائے گی غم نہ کر، غم نہ کر رت بدل جائے گی غم نہ کر، غم نہ کر

مزید پڑھیے

آرزو

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں مگر آرزو ہے کہ جب قضا مجھے بزم دہر سے لے چلے تو پھر ایک بار یہ اذن دے کہ لحد سے لوٹ کے آ سکوں ترے در پہ آ کے صدا کروں تجھے غم گسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں

مزید پڑھیے

تنہائی

پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ اپنے بے خواب کواڑوں کو ...

مزید پڑھیے

گیت

چلو پھر سے مسکرائیں چلو پھر سے دل جلائیں جو گزر گئیں ہیں راتیں انہیں پھر جگا کے لائیں جو بسر گئیں ہیں باتیں انہیں یاد میں بلائیں چلو پھر سے دل لگائیں چلو پھر سے مسکرائیں کسی شہ نشیں پہ جھلکی وہ دھنک کسی قبا کی کسی رگ میں کسمسائی وہ کسک کسی ادا کی کوئی حرف بے مروت کسی کنج لب سے ...

مزید پڑھیے

ڈھاکہ سے واپسی پر

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی کچھ گلے ...

مزید پڑھیے

واسوخت

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیا ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں ہم پرو کر ترے خیال کے پھول ترک الفت کے دشت سے چن کر آشنائی کے ماہ و سال کے پھول تیری دہلیز پر سجا آئے پھر تری یاد پر چڑھا آئے باندھ کر آرزو کے پلے میں ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

مزید پڑھیے

تم ہی کہو کیا کرنا ہے

جب دکھ کی ندیا میں ہم نے جیون کی ناؤ ڈالی تھی تھا کتنا کس بل بانہوں میں لوہو میں کتنی لالی تھی یوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے اور ناؤ پورم پار لگی ایسا نہ ہوا، ہر دھارے میں کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں کچھ مانجھی تھے انجان بہت کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں اب جو بھی چاہو چھان کرو اب جتنے ...

مزید پڑھیے

آخری خط

وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہے جب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیں اور حد سے گزر جائے گا اندوہ نہانی تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں چھن جائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہیں چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی شاید مری الفت کو بہت یاد کرو گی اپنے دل معصوم کو ناشاد کرو گی آؤگی ...

مزید پڑھیے

موضوع سخن

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی اور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں ٹمٹماتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 680 سے 960