شاعری

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں عذاب سارے ملال احوال دوستاں بھی خمار آغوش مہ وشاں بھی غبار خاطر کے باب ...

مزید پڑھیے

تم اپنی کرنی کر گزرو

اب کیوں اس دن کا ذکر کرو جب دل ٹکڑے ہو جائے گا اور سارے غم مٹ جائیں گے جو کچھ پایا کھو جائے گا جو مل نہ سکا وہ پائیں گے یہ دن تو وہی پہلا دن ہے جو پہلا دن تھا چاہت کا ہم جس کی تمنا کرتے رہے اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے یہ دن تو کئی بار آیا سو بار بسے اور اجڑ گئے سو بار لٹے اور بھر پایا اب ...

مزید پڑھیے

دعا

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں ہم جنہیں سوز محبت کے سوا کوئی بت کئی خدا یاد نہیں آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں ان کی ...

مزید پڑھیے

و یبقٰی وجہ ربک(ہم دیکھیں گے)

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے ہم اہل صفا ...

مزید پڑھیے

صبح آزادی (اگست 47)

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے چلے جو ...

مزید پڑھیے

رقیب سے!

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے جس کی ان آنکھوں نے بے سود ...

مزید پڑھیے

یاد

دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ گر رہی ہے تری دل دار نظر ...

مزید پڑھیے

جب تیری سمندر آنکھوں میں

یہ دھوپ کنارا شام ڈھلے ملتے ہیں دونوں وقت جہاں جو رات نہ دن جو آج نہ کل پل بھر کو امر پل بھر میں دھواں اس دھوپ کنارے پل دو پل ہونٹوں کی لپک بانہوں کی چھنک یہ میل ہمارا جھوٹ نہ سچ کیوں رار کرو کیوں دوش دھرو کس کارن جھوٹی بات کرو جب تیری سمندر آنکھوں میں اس شام کا سورج ڈوبے گا سکھ ...

مزید پڑھیے

مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا مری ذات ذرۂ بے نشاں میرے درد کو جو زباں ملے مجھے اپنا نام و نشاں ملے میری ذات کا جو نشاں ملے مجھے راز نظم جہاں ملے جو مجھے یہ راز نہاں ملے مری خامشی کو بیاں ملے مجھے کائنات کی سروری مجھے دولت دو جہاں ملے

مزید پڑھیے

لوح و قلم

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارا دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے مے خانہ سلامت ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 681 سے 960