شاعری

خود آگہی

وہ کیسی تاریک گھڑی تھی جب مجھ کو احساس ہوا تھا میں تنہا ہوں اس دن بھی سیدھا سادہ سورج نکلا تھا شہر میں کوئی شور نہیں تھا گھر میں کوئی اور نہیں تھا اماں آٹا گوندھ رہی تھیں ابا چارپائی پر بیٹھے اونگھ رہے تھے دھیرے دھیرے دھوپ چڑھی تھی اور اچانک دل میں یہ خواہش ابھری تھی میں دنیا سے ...

مزید پڑھیے

سمندر

لفظ بہت سے جگ مگ جگ مگ کرتے تارے چاند نہیں بننے پاتے ہیں رات گلے میں پھنس جاتی ہے جذبے کتنے بورائی الہڑ خوشبوئیں پھول نہیں بننے پاتی ہیں ذات گلے میں پھنس جاتی ہے لیکن اکثر تیری یادیں تیرا چہرہ بن کر آئیں جگ مگ جگ مگ کرتے تارے بورائی الہڑ خوشبوئیں چاند جلے رہتے ہیں شب بھر پھول ...

مزید پڑھیے

کوزہ گر

اے کوزہ گر! مری مٹی لے مرا پانی لے مجھے گوندھ ذرا مجھے چاک چڑھا مجھے رنگ برنگے برتن دے

مزید پڑھیے

معمول

میں بھی بادشاہ کی حکومت کا منکر ہوں لیکن جینے کی آرزو میں روز اس کی چوکھٹ پر سورج سا ابھرتا ہوں شام سا ڈوبتا ہوں گھر میں اعلان بغاوت کے طور پر بیوی بچوں کو مارتا ہوں رات رات جاگتا ہوں

مزید پڑھیے

یوم یادگار سر سیدؔ در دکن

جو شمع علم مغرب سید نے کی تھی روشن بکھری ہوئی ہیں جس کی کرنیں ہر انجمن میں اس شمع علم و فن کی کچھ منتشر شعاعیں یاران بزم تم ہو اس گوشۂ دکن میں لیکن یہ یاد رکھو سچی شعاع وہ ہے آنکھوں کا نور بن کر پھیلے جو مرد و زن میں جو شمع سے نکل کر دنیا کو جگمگا دے جو روح تازہ پھونکے ہر پیکر کہن ...

مزید پڑھیے

ایک رہگزر پر

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں ہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیں ہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیں شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں ادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباں بیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں سیاہ زلفوں میں ...

مزید پڑھیے

جو میرا تمہارا رشتہ ہے

میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں لکھا گیا ہے بہت لطف وصل و درد فراق مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہم دم مہ و سال اس عشق خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے ''گزر گیا ہے زمانہ گلے ...

مزید پڑھیے

آج شب کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی خواب در خواب محلات کے در وا ہیں کئی اور مکیں کوئی نہیں ہے، آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت کوئی امید، کوئی آس مسافر صورت کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں کوئی نہیں ہے آج شب دل ...

مزید پڑھیے

درد آئے گا دبے پاؤں

اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کو فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا حلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیں ہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیں لطف کی ...

مزید پڑھیے

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا تم ناحق ٹکڑے چن چن کر دامن میں چھپائے بیٹھے ہو شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کیا آس لگائے بیٹھے ہو شاید کہ انہیں ٹکڑوں میں کہیں وہ ساغر دل ہے جس میں کبھی صد ناز سے اترا کرتی تھی صہبائے غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 679 سے 960