شاعری

دہلی

ہماری مجلس شوریٰ کے اونچے اونچے محل نظر جھکائے جمود عمل سے سر بوجھل وہ بے بسی کہ ذرا آگے بڑھ نہیں سکتے کتاب وقت کی تحریر پڑھ نہیں سکتے بھڑک رہے ہیں نگاہوں کے سامنے شعلے زباں نہ منہ میں ہو جس کے وہ کس طرح بولے یہ شہر دلی بہشت نظر جو تھا کل تک بنا ہوا ہے جہنم زمیں سے تا بہ ...

مزید پڑھیے

کوئی رہبر کوئی ساتھی کوئی اپنا نہ ملا

میں وہ کشتی ہوں کبھی جس کو کنارا نہ ملا لے لیا اپنی جوانی کا سہارا میں نے جب مجھے قوم کے ہاتھوں کا سہارا نہ ملا ہو کے مجبور جہنم کو بسایا میں نے جب مجھے مندر و مسجد میں ٹھکانا نہ ملا کل حقارت سے جو کہتے تھے بھکارن مجھ کو آج کہتے ہیں کہ گلشن میں نیا پھول کھلا کوئی سمجھا نہ میری روح ...

مزید پڑھیے

اک لڑکی

یہ دیوانی سی اک لڑکی حسیں بھی دل ربا بھی ہے ابھی معصوم ہے لیکن وفا سے آشنا بھی ہے مرے گھر کی ہیں دیواریں اسی کے رنگ سے روشن اسی کے دم سے پاکیزہ مری امید کا آنگن جبیں اس کی سحر جیسی اذاں دیتی ہوئی آنکھیں نظر کا امتحاں لیتی شب تاریک سی زلفیں نگاہیں زندگی جیسی ادائیں چاندنی جیسی وفا ...

مزید پڑھیے

آرزوئے حیات

اے آرزوئے حیات اب کی بار جان بھی چھوڑ تجھے خبر ہی نہیں کیسے دن گزرتے ہیں اے آرزوئے نفس اب معاف کر مجھ کو تجھے یہ علم نہیں کتنی مہنگی ہیں سانسیں کہ تو تو لفظ ہے بس ایک لفظ ادھ مردہ ترے خمیر کی مٹی کا رنگ لال گلال سلگتی آگ نے تجھ کو جنا ہے اور تو خود اک ایسی بانجھ ہے جس سے کوئی امید ...

مزید پڑھیے

وہ عورت تھی

خلا کی مشکلات اپنی جگہ قائم تھیں اور دنیا اجڑتی بھربھری بنجر زمینوں کی نشانی تھی ستارے سرخ تھے اور چاند سورج پر اندھیروں کا بسیرا تھا درختوں پر پرندوں کی جگہ ویرانیوں کے گھونسلے ہوتے زمیں کی کوکھ میں بس تھور تھا اور خار اگتے تھے ہوا کو سانس لینے میں بہت دشواریاں ہوتیں تو پھر اس ...

مزید پڑھیے

گواہی

میں محبت کے ستاروں سے نکلتا ہوا نور حق و ناحق کے لبادوں میں چھپا ایک شعور میرے ہی دم سے ہوا مسجد و مندر کا ظہور میں مسلمان و برہمن کے ارادوں کا فتور میں حیا زادی و خوش نین کے ہونٹوں کا سرور کسی مجبور طوائف کی نگاہوں کا قصور میری خواہش تھی کہ میں خود ہی زمیں پر جاؤں اور زمیں زاد کا ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ کر جاتا ہے

لمحوں کے ریزوں کی ہلکی بارش میں سب کتنے خوش خوش پھرتے ہیں ان خوش خوش پھرنے والوں کو یہ کون بتائے کیسے نظر نہ آنے والے ریزے لمحوں کے جب جڑ جاتے ہیں ایک پہاڑ سا بھاری لمحہ بن جاتے ہیں جو چپکے سے اپنی لمبی اور چمکیلی دم لہراتا آ جاتا ہے سر پر دھم سے آ گرتا ہے ریزہ ریزہ کر جاتا ہے!!

مزید پڑھیے

بے کراں وسعتوں میں تنہا

سفر میں ہوں اور رکا کھڑا ہوں میں چاروں سمتوں میں چل رہا ہوں مگر کہاں ہوں وہیں جہاں سرخ روشنائی کا ایک قطرہ کسی قلم کی کثیف نب سے ٹپک پڑا ہے میں خود بھی شاید کسی قلم سے گرا ہوا ایک سرخ قطرہ ہوں زندگی کی سجل جبیں پر چمکتی بندیا سی بن گیا ہوں مگر میں بندیا نہیں ہوں شاید کہ وہ تو تقدیس ...

مزید پڑھیے

اک بے انت وجود

اک بے انت وجود ہے اس کا گہرے کالے مخمل ایسا جس پر لاکھوں اربوں آنکھیں نقش ہوئی ہیں ان آنکھوں میں میں اک ایسی آنکھ ہوں جس نے ایک ہی پل میں سارا منظر اور منظر کے پیچھے کا سب خالی منظر دیکھ لیا ہے تکنا اس نے سیکھ لیا ہے پر وہ گہرا کالا مخمل اس کو اس سے غرض نہیں ہے کون سی آنکھ کو بینائی ...

مزید پڑھیے

کہاں سے تم آئے ہو بھائی

سفیدے کے سنبل کے اور پوپلر کے چھریرے شجر مری جوہ میں آئے تھے جب مری سبز دھرتی کا اک بھی پرندہ انہیں دیکھنے ان کی شاخوں میں آرام کرنے کو تیار ہرگز نہیں تھا کبھی کوئی پھولے پروں والی اک پھول سی فاختہ ان کی شاخوں کی جانب امنڈتی تو بو سے پریشان ہو کر فلک کی طرف تیر بن کر کچھ اس طور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 65 سے 960