دہلی
ہماری مجلس شوریٰ کے اونچے اونچے محل نظر جھکائے جمود عمل سے سر بوجھل وہ بے بسی کہ ذرا آگے بڑھ نہیں سکتے کتاب وقت کی تحریر پڑھ نہیں سکتے بھڑک رہے ہیں نگاہوں کے سامنے شعلے زباں نہ منہ میں ہو جس کے وہ کس طرح بولے یہ شہر دلی بہشت نظر جو تھا کل تک بنا ہوا ہے جہنم زمیں سے تا بہ ...