ماں
کس نے ان آہنی دروازوں کے پٹ کھول دئیے کس نے خوں خوار درندوں کو یہاں چھوڑ دیا کس نے آنچل پہ مرے ڈال دئیے انگارے ٹھیک سے کٹنے بھی نہ پایا تھا طوق گردن ابھی تو صدیوں کا پامال تھا میرا خرمن اس پہ ان وحشی لیٹروں نے سیہ کاروں نے میرے ارمانوں کو تاراج کیا لوٹ لیا میرے معصوموں کو بے خانہ ...