شاعری

ماں

کس نے ان آہنی دروازوں کے پٹ کھول دئیے کس نے خوں خوار درندوں کو یہاں چھوڑ دیا کس نے آنچل پہ مرے ڈال دئیے انگارے ٹھیک سے کٹنے بھی نہ پایا تھا طوق گردن ابھی تو صدیوں کا پامال تھا میرا خرمن اس پہ ان وحشی لیٹروں نے سیہ کاروں نے میرے ارمانوں کو تاراج کیا لوٹ لیا میرے معصوموں کو بے خانہ ...

مزید پڑھیے

سوکھے ہوئے بیلے

تم نے سوکھے ہوئے بیلے بھی کبھی سونگھے ہیں ان کو مسلا نہ کرو کتنی آزردہ مگر بھینی مہک دیتے ہیں ان کو پھینکا نہ کرو گرد آلود بجھے چہروں کو سمجھا بھی کرو صرف دیکھا نہ کرو ہاتھ کے چھالوں کا گٹھوں کا مداوا بھی کرو صرف چھیڑا نہ کرو تم نے سوکھے ہوئے بیلے بھی کبھی سونگھے ہیں

مزید پڑھیے

جمالیات

جمالیات کا نقاد جتنا حیراں ہے وہ باب حسن میں بھی اتنا ہی پریشاں ہے جمالیات میں کیا ہے جو خود نہیں فن میں جمالیات کا محور نشاۃ دوراں ہے جمالیات کو فرہنگ میں کرو نہ تلاش جمالیات میں زلف سخن کی افشاں ہے جمالیات کو اسلوب میں شمار کرو جمالیات میں ہر فرد اک دبستاں ہے جمالیات تغیر پذیر ...

مزید پڑھیے

بھوکا بنگال

پورب دیس میں ڈگی باجی پھیلا سکھ کا حال دکھ کی آگنی کون بجھائے سوکھ گئے سب تال جن ہاتھوں میں موتی رو لے آج وہی کنگال آج وہی کنگال بھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال پیٹھ سے اپنے پیٹ لگائے لاکھوں الٹے کھاٹ بھیک منگائی سے تھک تھک کر اترے موت کے گھاٹ جین مرن کے ڈانڈے ملائے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

مداوا

کتنے بیباک ہیں شاعر اب کے کتنے عریاں ہیں یہ افسانہ نگار کچھ سمجھ میں مرے آتے ہی نہیں ان ادب سوزوں کے گنجلک اشعار یوں تو اپنے کو یہ کہتے ہیں ادیب پڑھتے ہیں جنگ کے لیکن اخبار کبھی یورپ کا کبھی پورب کا ذکر کرنے میں اڑاتے ہیں شرار داستانیں نہ قصیدے نہ غزل ادب تلخ کی ہر سو بھر مار کبھی ...

مزید پڑھیے

الف لیلہ

تھک گئی رات مسکنے لگا غازہ کا فسوں سرد پڑنے لگیں گردن میں حمائل بانہیں فرش بستر پہ بکھرنے لگے افشاں کے چراغ مضمحل سی نظر آنے لگیں عشرت گاہیں زندگی کتنے ہی ویرانوں میں دم توڑ چکی اب بھی ملتی ہیں مگر غم کی فسردہ راہیں جس طرح طاق میں جل بجھتی ہیں شمعوں کی قطار ظلمت شب میں جگاتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

کارل مارکس

مارکس کے علم و فطانت کا نہیں کوئی جواب کون اس کے درک سے ہوتا نہیں ہے فیض یاب اس کی دانائی کا حاصل ناخن عقدہ کشا تابناکئ ضمیر و زیرکی کا آفتاب چاہنے والوں کا اس کی ذکر ہی کیا کیجیے اس کے دشمن بھی سرہانے رکھتے ہیں اس کی کتاب مادی تاریخ عالم جس کی تالیف عظیم تاس کیپٹال ہے یا زیست کا ...

مزید پڑھیے

ضمیر

روح ناپاک مری قلب بھی ناپاک مرا نفس امارہ بہت ہو گیا بیباک مرا بوجھ میں اپنے ہی ماضی کے دبا جاتا ہوں اپنی ہی آگ میں اب خود ہی جلا جاتا ہوں کس طرف جاؤں کہاں دھوؤں میں اپنا دامن میرے مقتول مرے ساتھ ہیں بے غسل و کفن دیکھتا ہوں شب تاریک میں جب میں تارے نوک نیزہ پہ نظر آتے ہیں کتنے ...

مزید پڑھیے

سفر ناتمام

زندگی کون سی منزل پہ رکی ہے آ کر آگے چلتی بھی نہیں راہ بدلتی بھی نہیں سست رفتار ہے یہ دور عبوری کتنا سخت و بے جان ہے وہ پیکر نوری کتنا چاند اک خواب جو تھا شہر امید تہہ آب جو تھا حسن کے ماتھے کا ننھا ٹیکا پائے آدم کے تلے آتے ہی اترے چہرے کی طرح ہو گیا کتنا پھیکا ہم جنوں کیش و طرح دار ...

مزید پڑھیے

خونی قلعہ

بہت ہی سخت بہت ہی طویل ہے یہ گھڑی اس عہد قہقری کا ہر قدم ہے ایک صدی یہ عہد جس پہ کئی نسلوں کی ہے گرد پڑی یہ پیر زال یہ قلعہ کنار آب رواں بھڑکتے شعلوں کے مانند جس کا ہر گنبد یہ کنگرے ہیں کہ ہیں بھٹیوں کے انگارے جلا کے رکھ دیئے جن کی تپش نے لاکھوں مکاں یہ ہے علامت فسطائیت گراؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 64 سے 960