شاعری

دعا

بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں بدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائے فلک پر گرجتا ہوا گرم بادل ترے تن کی قوس قزح کا لرزتا دمکتا ہوا کوئی منظر دکھائے تجھے ہر قدم پر ملیں منزلیں ہوا کے ایک باریک سے تیز چابک کی صورت تری بند مٹھی میں دبکی رہے سدا ...

مزید پڑھیے

تھکن

گھٹنوں پہ رکھ کر ہاتھ اٹھی تھکی آواز میں بولی بہت لمبا سفر ہے عمر کے منہ زور دریا کا اکھڑتے پتھروں چکنی پھسلتی ساعتوں کا یہ سفر مشکل بہت ہے تھکن بوجھل منوں بوجھل بدن اپنا اٹھا کر چل پڑی چلتی رہی پھر ایک دن بھاری پپوٹوں کو اٹھا کر اس نے دیکھا راستے کے بیچ ایک برگد پرانا سمادھی ...

مزید پڑھیے

سفر کا دوسرا مرحلہ

چلی کب ہوا کب مٹا نقش پا کب گری ریت کی وہ ردا جس میں چھپتے ہوئے تو نے مجھ سے کہا آگے بڑھ آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ کوئی چہرہ کوئی چاپ ماضی کی کوئی صدا کچھ نہیں اب اے گلے کے تنہا محافظ ترا اب محافظ خدا میرے ہونٹوں پہ کف میرے رعشہ زدہ بازوؤں سے لٹکتی ہوئی گوشت کی ...

مزید پڑھیے

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو تو کچھ بھی نہیں رہتا موجود تم چلے جاتے ہو اور بولنے لگتے ہیں تمام ادھ کھلے پھول سماعت پہ جمی چاپ ہوا بند مکان گفتگو کرنے کے آسن میں رکے سب اجسام مردہ لمحات کا اک ڈھیر پہاڑ ابر کی قاش اٹھی موج کا ساکت اندام برف لب پلکوں پہ ٹانکے ہوئے موتی آنسو اور سلے کانوں میں آواز کی ...

مزید پڑھیے

اجنبی

اون اتری بھیڑ کے مانند پیڑ منہ چڑھاتی دل دکھاتی چوٹیاں دور نیچے پتھروں کی سیج پر سر پٹختی چیختی ندی رواں آسماں پر مردہ بادل خیمہ زن قہقہوں سے رعد کے نا آشنا مہر جیسے کوئی مجبور ازل ایک میلے جال میں الجھا ہوا ملگجی سی روشنی میں ایک پیڑ کانپتی انگلی سے مجھ پر خندہ زن آسماں پر ...

مزید پڑھیے

المیہ

کہاں اب کہاں وہ ہوا جو سنہری سی الھڑ سی پگڈنڈیوں پر مرے پیچھے پیچھے چلی میں نے جس سے کہا یوں نہ آ دیکھ لے گا کوئی وہ ہنسی زہر میں ڈوبے ہونٹوں نے مجھ سے کہا تو یوں ہی ڈر گیا میں ہوا دور پربت پہ میرا نگر اونچے آکاش پر میرا گھر زرد پگڈنڈیوں سے مجھے واسطے اور میں بڑھتا گیا اونچا اٹھتا ...

مزید پڑھیے

اب دن کی باتیں کرتے ہیں

لو رات کی بات تمام ہوئی اب دن کی باتیں کرتے ہیں سب خواب تماشے دھول ہوئے اور جگنو تارے دیپ سبھی پرکاش کے پھیلے ساگر میں چمکاٹ دکھانا بھول گئے اک چاند کہ شب بھر ساتھ رہا وہ چاند بھی گر کر ٹوٹ گیا لو رات کی بات تمام ہوئی اب دن کی باتیں کرتے ہیں پھولوں کے سوجے چہروں پر شبنم کی چڑیاں ...

مزید پڑھیے

ذات کے روگ میں

تب وہ بے ساختہ رو پڑے سینہ کوبی کرے جانے والے کا ماتم کرے بین کرتے پھرے آخری پات کے سوگ میں تلملاتی رہے ذات کے روگ میں پھر وہ رت آئے جب چکنی کائی زدہ سی چٹانوں پہ دیکھوں میں خود کو میں آنکھوں کے پانی کو روکوں مگر پانی کیسے رکے تب میں چیخوں بلاؤں اسے گہرے نیلے سمندر کی تہہ میں وہ ...

مزید پڑھیے

کتنی بار بلایا اس کو

کتنی بار بلایا اس کو لیکن اس کے لب لرزے نہ آنکھوں میں پہچان کا کوندا لہرایا بس اک پل خالی نظریں اس نے مجھ پر ڈالیں اور پلکوں کے پیچھے جا کر چپ کے بھاری حجرے میں آرام کیا پر میرے ہونٹوں سے بہتے لفظوں کا اک دھول اڑاتا شور چھتوں پھر چھتناروں تک پھیل گیا پھر اور بھی اوپر تاروں کے ...

مزید پڑھیے

کوہ ندا

صبح سویرے ایک لرزتی کانپتی سی آواز آتی ہے سونے والو! تم مالک کو بھول گئے ہو تم مالک کو بھول گئے ہو پھر چمکیلی مل کا سائرن ایک غلیظ ڈرانے والی تند صدا کے روپ میں ڈھل کر دیواروں سے ٹکراتا ہے اور گلیوں کے تنگ اندھیرے باڑے میں کہرام مچا کر بھیڑوں کے گلے کو ہانک کے لے جاتا ہے پھر انجن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 66 سے 960