دعا
بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں بدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائے فلک پر گرجتا ہوا گرم بادل ترے تن کی قوس قزح کا لرزتا دمکتا ہوا کوئی منظر دکھائے تجھے ہر قدم پر ملیں منزلیں ہوا کے ایک باریک سے تیز چابک کی صورت تری بند مٹھی میں دبکی رہے سدا ...