بوسکی
وقت کو آتے نہ جاتے نہ گزرتے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورت جمع ہوتے ہوئے اک جگہ مگر دیکھا ہے شاید آیا تھا وہ خوابوں سے دبے پاؤں ہی اور جب آیا خیالوں کو بھی احساس نہ تھا آنکھ کا رنگ طلوع ہوتے ہوئے دیکھا جس دن میں نے چوما تھا مگر وقت کو پہچانا نہ تھا چند تتلائے ہوئے ...