شاعری

کرچیں

ٹکڑا اک نظم کا دن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہا لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا

مزید پڑھیے

اردو زباں

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا، مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔ نشہ آتا ہے اردو بولنے میں گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہے بڑی ارسٹوکریسی ہے زباں ...

مزید پڑھیے

دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم

دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم جیسے جنگل میں شام کے سائے جاتے جاتے سہم کے رک جائیں مر کے دیکھیں اداس راہوں پر کیسے بجھتے ہوئے اجالوں میں دور تک دھول ہی دھول اڑتی ہے!

مزید پڑھیے

برف پگھلے گی

برف پگھلے گی جب پہاڑوں سے اور وادی سے کہرا سمٹے گا بیج انگڑائی لے کے جاگیں گے اپنی السائی آنکھیں کھولیں گے سبزہ بہہ نکلے گا ڈھلانوں پر غور سے دیکھنا بہاروں میں پچھلے موسم کے بھی نشاں ہوں گے کونپلوں کی اداس آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی بچی ہوگی

مزید پڑھیے

کندھے جھک جاتے ہیں

کندھے جھک جاتے ہیں جب بوجھ سے اس لمبے سفر کے ہانپ جاتا ہوں میں جب چڑھتے ہوئے تیز چڑھانیں سانسیں رہ جاتی ہیں جب سینے میں اک گچھا سا ہو کر اور لگتا ہے کہ دم ٹوٹ ہی جائے گا یہیں پر ایک ننھی سی میری نظم سامنے آ کر مجھ سے کہتی ہے مرا ہاتھ پکڑ کر، میرے شاعر لا، میرے کندھوں پر رکھ دے، میں ...

مزید پڑھیے

وقت۔۲

وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولی رات اور دن اور چاند اور میں جانے کیسے کائنات میں اٹکا پاؤں دور گرا جا کر میں جیسے روشنی سے دھکا کھا کے، پرچھائیں زمیں پر گرتی ہے! دھیا چھونے سے پہلے ہی وقت نے چور کہا اور آنکھیں کھول کے مجھ کو پکڑ لیا!!

مزید پڑھیے

نصیرالدین شاہ کے لیے

اک اداکار ہوں میں میں اداکار ہوں ناں جینی پڑتی ہیں کئی زندگیاں ایک حیاتی میں مجھے میرا کردار بدل جاتا ہے ہر روز نئی سیٹ پر میرے حالات بدل جاتے ہیں میرا چہرہ بھی بدل جاتا ہے افسانہ و منظر کے مطابق میری عادات بدل جاتی ہیں اور پھر داغ نہیں چھوٹتے پہنی ہوئی پوشاکوں کے خستہ کرداروں ...

مزید پڑھیے

غالب

بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں سامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ وا چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے ایک بکری کے ممیانے کی آواز اور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائے ایسے دیواروں سے منہ جوڑ ...

مزید پڑھیے

بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤں

بارش ہوتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤں در و دیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سے اور اچھلتا ہے چھپاکوں میں کسی میچ میں جیتے ہوئے لڑکوں کی طرح جیت کر آتے ہیں جب میچ گلی کے لڑکے جوتے پہنے ہوئے کینوس کے اچھلتے ہوئے گیندوں کی طرح در و دیوار سے ٹکرا کے گزرتے ہیں وہ پانی کے چھپاکوں کی ...

مزید پڑھیے

شہتوت کی شاخ پہ

شہتوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئی بنتا ہے ریشم کے تاگے لمحہ لمحہ خول رہا ہے پتہ پتہ بین رہا ہے ایک ایک سانس بجا کر سنتا ہے سودائی ایک ایک سانس کو خول کے اپنے تن پر لپٹاتا جاتا ہے اپنی ہی سانسوں کا قیدی ریشم کا یہ شاعر اک دن اپنے ہی تاگوں میں گھٹ کر مر جائے گا!

مزید پڑھیے
صفحہ 640 سے 960