شاعری

محبت کی ایک نظم

مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھا تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زاد سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے دل کے جادۂ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ...

مزید پڑھیے

بارہواں کھلاڑی

خوش گوار موسم میں ان گنت تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کو داد دینے آتے ہیں اپنے اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں میں الگ تھلگ سب سے بارہویں کھلاڑی کو ہوٹ کرتا رہتا ہوں بارہواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلاڑی ہے کھیل ہوتا رہتا ہے شور مچتا رہتا ہے داد پڑتی رہتی ہے اور وہ الگ سب سے انتظار کرتا ...

مزید پڑھیے

ایک شاعر ایک نظم

اپنے شہسواروں کو قتل کرنے والوں سے خوں بہا طلب کرنا وارثوں پہ واجب تھا قاتلوں پہ واجب تھا خوں بہا ادا کرنا واجبات کی تکمیل منصفوں پہ واجب تھی منصفوں کی نگرانی قدسیوں پہ واجب تھی وقت کی عدالت میں ایک سمت مسند تھی ایک سمت خنجر تھا تاج زرنگار اک سمت ایک سمت لشکر تھا اک طرف مقدر ...

مزید پڑھیے

امید کا دیپک

اک رات اندھیری ہے اور وقت کی آندھی ہے طغیانی کے عالم میں اک رات گھروندا ہے امید کا دیپک ہے پروانے سا جذبہ ہے اک میں ہوں خدا بھی ہے اک روز سحر ہوگی اک روز سحر ہوگی

مزید پڑھیے

بھاری بستہ

چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی چپل میری نیکر کی جیبوں میں ہوتی تھی بستہ کندھے پر پھینکے تختی لہراتا بھاگ نکلتا تھا پھر یہ گھوڑے شوڑے میرے آگے بچے ہوتے تھے پر میرے بچے علم کی ڈگڈگی جاہل کے ہاتھ آ جائے تو بستے بھارتی ہو جاتے ہیں اتنے بھاری ہو جاتے ہیں چھٹی کی گھنٹی سے گھٹنے بج اٹھتے ...

مزید پڑھیے

سانس بھر ہوا

میں ایک ہی سانس میں بہت سی زندگیاں جی لیتا ہوں کھلتی کلی سے گزرتا جھونکا فتح مند کھلاڑی کا اڑتا پسینہ وصل کی لذت سے مغلوب عورت کی کراہ سر شام دیا بجھاتے نوجوان شاعر کی پھونک بارش میں گرتی کچی چھت کا بوجھل غبار مرنے والے کے سینے سے نکلی آخری آہ میں ایک ہی سانس میں بہت سی موتیں مر ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی پیڑ نکل آتا ہے

بیٹھے بیٹھے رستے نکل آتے ہیں چلتے چلتے گم جاتے ہیں پھر کوئی پیڑ نکل آتا ہے جس کے نیچے بیٹھ کے ہم گم رستے دہراتے ہیں لمحہ بھر سستاتے ہیں بیٹھے بیٹھے رستے نکل آتے ہیں

مزید پڑھیے

روشنی میں کھوئی گئی روشنی

میں نے اسے نہیں دیکھا جب تک اس نے سارے چراغ گل نہیں کر دیے اندھیرے میں مجھے چاروں طرف وہی نظر آئی ڈراؤنے جنگل میں رستہ بناتے جگنوؤں کی طرح ہو سکتا ہے میں حادثاتی طور پر روشنی میں آ جاؤں لیکن اب وہ جان چکی ہے چراغ جلتے ہی مجھے جگنو نظر آنا بند ہو جاتے ہیں

مزید پڑھیے

ہرکولیس اور پاٹے خاں کی سرکس

یہ بے ہنگم بے ڈھب دنیا ہر متناسب سوچ کو پوجا کے پرشاد سے فربہ کر دیتی ہے یا تنگی کی چکی سے وہ خوراک کھلاتی ہے سوچ کی آنکھیں دھنس جاتی ہیں کان لٹک جاتے ہیں کسی سڈول خیال کو محبوبہ نہیں ملتی حاسد بھول بھلیاں اسے جواں ہونے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں ہرکولیس اور پاٹے‌ خاں کی سرکس سے ...

مزید پڑھیے

کھڈیوں پر بنے لوگ

لوگ مرتے ہیں تھری پیس سوٹ میں تنگ ہوتی وردی میں ٹخنے تقسیم کرتی شلواروں گھٹی تمنا یا وصل کے سیال سے چپکتے زیر جاموں میں انسان انہیں دکھتا ہے آخری رسومات کے دوران یا جب اسے وصل کے غار سے دھکیلا جاتا ہے کھڈیوں پر بنے لوگ عمر بھر ایک دوسرے کو انسان کی باتیں سناتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 607 سے 960