شاعری

شکست

زمین سنگ سے سورج اگانے والے ہاتھ کسے خبر تھی کہ اس شہر میں قلم ہوں گے جہاں سے پرچم دست ہنر بلند ہوا زمیں عقیدۂ فردا سے لالہ رنگ ہوئی افق ستارۂ محنت سے ارجمند ہوا اور اب کے بار قلم بھی انہیں کے ساتھ رہے جو اپنی فتح کے نشہ میں چور نخوت سے دریدہ دامنئ اہل دل پہ ہنستے ہیں فغان قافلۂ ...

مزید پڑھیے

تجاہل عارفانہ

جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتے ہیں کس طرح کے پھولوں میں کیسی باس ہوتی ہے جوہری کو کیا معلوم جوہری تو ساری عمر پتھروں میں رہتا ہے زر گروں میں رہتا ہے جوہری کو کیا معلوم یہ تو بس وہی جانے جس نے اپنی مٹی سے اپنا ایک اک پیماں استوار رکھا ہو جس نے حرف پیماں کا ...

مزید پڑھیے

ابوطالب کے بیٹے

جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیں تا ابد روشن رہیں گی خدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس انفس و آفاق ہے اور خیر کی تاریخ کا وہ باب اول ہے ابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گا یقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیں تا ابد آتے رہیں گے ابوطالب کے بیٹے ...

مزید پڑھیے

نروان

جسم کے راستوں سے گزر کر مطمئن نفس کی آرزو میں جو بھی نکلا وہ واپس نہ آیا روح کی وحشتوں میں الجھ کر مطمئن نفس کی آرزو میں جو بھی نکلا وہ واپس نہ آیا لوگ پھر دیکھتے کیوں نہیں ہیں لوگ پھر سوچتے کیوں نہیں ہیں لوگ پھر بولتے کیوں نہیں ہیں

مزید پڑھیے

اعلان نامہ

میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں کہ جس کے بیٹوں نے جو کہا اس پہ جان دے دی میں جانتا تھا مرے قبیلے کی خیمہ گاہیں جلائی جائیں گی اور تماشائی رقص شعلہ فشاں پر اصرار ہی کریں گے میں جانتا تھا مرا قبیلہ بریدہ اور بے ردا سروں کی گواہیاں لے کے آئے گا پھر بھی لوگ انکار ہی ...

مزید پڑھیے

روشن دل والوں کے نام

دل کی آنکھ سے خیر کے سارے روشن منظر دیکھنے والو! حد نظر تک پھیلی ہوئی سب روشنیوں سارے رنگوں کو ہات سے چھو کر دیکھنے والو! بستی بستی گلشن گلشن ہنستی ہوئی ساری ہریالی سب شادابی دل کے اندر دیکھنے والو! دل کے نور خزانوں کا ایک ایک چراغ جلائے رکھنا امکانوں کے ہر کوچے میں امیدوں کی ہر ...

مزید پڑھیے

جسم کے راستوں سے گزر کر

مطمئن نفس کی آرزو میں جو بھی نکلا وہ واپس نہ آیا روح کی وحشتوں میں الجھ کر مطمئن نفس کی آرزو میں جو بھی نکلا وہ واپس نہ آیا لوگ پھر دیکھتے کیوں نہیں ہیں لوگ پھر سوچتے کیوں نہیں ہیں لوگ پھر بولتے کیوں نہیں ہیں

مزید پڑھیے

ابھی کچھ دن لگیں گے

ابھی کچھ دن لگیں گے دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے جہان رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر بنتے بنتے رہ گیا ہے وہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں ...

مزید پڑھیے

ہوائیں ان پڑھ ہیں

اب کے بار پھر موج بہار نے فرش سبز پر ساعت مہر میں ہار سنگھار سے ہم دونوں کے نام لکھے ہیں اور دعا مانگی ہے کہ ''اے راتوں کو جگنو دینے والے! سوکھی ہوئی مٹی کو خوشبو دینے والے! شکر گزار آنکھوں کو آنسو دینے والے! ان دونوں کا ساتھ نہ چھوٹے'' اور سنا یہ ہے کہ ہوائیں اب کے بار بھی تیز بہت ...

مزید پڑھیے

بدن دریدہ روحوں کے نام ایک نظم

خوابوں سے تہی بے نور آنکھیں ہر شام نئے منظر چاہیں بے چین بدن پیاسی روحیں ہر آن نئے پیکر چاہیں بے باک لہو ان دیکھے سپنوں کی خاطر جانے ان جانے رستوں پر کچھ نقش بنانا چاہتا ہے بنجر پامال زمینوں میں کچھ پھول کھلانا چاہتا ہے یوں نقش کہاں بن پاتے ہیں یوں پھول کہاں کھلنے والے ان بدن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 606 سے 960