شاعری

شناور

خلا میں غور سے دیکھوں تو اک تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کا چہرہ ترے چہرے سے ملتا ہے وہی آنکھیں وہی رنگت وہی ہیں خال و خد سارے مری آنکھوں سے دیکھے تو تجھے اس عکس کے چہرے پہ اک تل بھی دکھائی دے جو بالکل تیرے چہرے پر سجے اس تل کے جیسا ہے جو گہرا ہے بہت گہرا سمندر سے بھی گہرا ہے کہ اس ...

مزید پڑھیے

اقرار

تری سنجیدہ باتیں یاد آئیں تو ہنساتی ہیں تری سب بھولپن میں کی ہوئی باتیں ستاتی ہیں ترا یہ بچپنا تو جانے کب جائے گا جان جاں تجھے بھی پیار کرنا جانے کب آئے گا جان جاں بھری محفل میں سب کے سامنے اقرار کرتا ہوں میں تم سے پیار کرتا ہوں تمہی سے پیار کرتا ہوں نہ ہو مجھ پر یقیں تم کو تو اک دن ...

مزید پڑھیے

ایس ایم ایس

میں نے اس کو میسج بھیجا جس میں میں نے پیار محبت کے کچھ جملے درج کیے اور نیچے اپنا نام بھی لکھا وہ بھی عجلت میں تھی شاید اس نے ٹو کا اضافہ کر کے میسج مجھ کو واپس بھیجا جلدی میں وہ اپنا نام ہی بھول گئی تھی اس نے اپنا نام نہ لکھا نیچے میرا نام لکھا تھا

مزید پڑھیے

تیری یاد

ہفتہ پہلے جب تیرا فون آیا اور تو نے کہا جان جاناں آئی مس یو تب سے جانے کیوں دل میں ایک عجب سی ہلچل ہے دل کے دریا میں جیسے کسی نے پتھر پھینک دیا مجھ کو ایسا لگتا ہے پتھر تیری یاد کا تھا جس کے گرتے ہی پانی بے بس ہو کر اچھل گیا آنکھ کٹورا بھر آیا نہیں یقیں تو دیکھ آ کر آج بھی میری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

زیست مزاجوں کا نوحہ

ریشۂ اشک پہ ٹانکے ہوئے ہم برگ ملال قریۂ وحشت و افتاد میں ہیں خیمہ بدوش اپنے حصے کی جہانگیری اٹھا لائے ہیں کیا خبر کون نظر طرفہ مسیحائی ہو کون سا زہر ترے ہجر کا تریاق بنے بس اسی کار فراغت پہ ہے مامور یہ دل جس پہ کھلتے نہیں اسرار تعلق نہ مزاج اپنی ہی دھن میں سبک خیز چلا جاتا ہے ایک ...

مزید پڑھیے

اسکیپ اِزم

چل کہ صد چاک گریباں وہاں ہو آتے ہیں یہ جو ہنگامۂ ہستی ہے ذرا دیر کو چھوڑ ایک بے انت مسافت کے ادھر بیٹھتے ہیں یاد کرتے ہیں پری خانوں کی تلخابی کو اپنی آزردہ تمناؤں پہ رو لیتے ہیں گرد میں رکھے ہوئے اشک فسردہ چہرے گئے وقتوں کا تذبذب نئے وقتوں کا عذاب آ کہ شانوں سے گرا آتے ہیں اس پار ...

مزید پڑھیے

پاگل

دیکھ نی مائے؟ سندر ماتھے کی ریکھائیں تیرے ہاتھ کی ریکھاؤں سے ملتی جلتی اتر دکھن پورب پچھم ایک سفر ہے ٹانواں ٹانواں دیکھ گلابی آگ پہ سینکی ڈب کھڑبی روٹی جیسا چہرا میرا دیکھ نی مائے سرسوں جیسے ہاتھ تھے میرے ہرے ہرے کنگن کی چنی گیٹہ گیٹہ بالن چننا ان کو مہنگا پڑ جائے گا کب سوچا ...

مزید پڑھیے

اے مرے خواب

اے مرے خواب ہنر خیز روایت کے امیں انکشافات کی دریوزہ گری چھوڑ بھی دے گرد ہنگام میں ترتیب سے رکھ آنکھ کی خستہ فصیلوں سے گرے خشت مزاج ان چنے زرد گلوں سے ڈھکے کچھ سوختہ پل سمت کا کوئی تعین تو نظر میں ٹھہرے اے مرے خواب مرے ساتھ نہ چل مجھے درپیش ہے لا سمت سماج ایک ویرانی تماشے میں ...

مزید پڑھیے

آدمی

لا انتہا جہان مجسم سے بھی سوا لا منتہا زمانوں میں رہتے ہوئے یہ ابد قرنوں سے رینگتی ہوئی تقویم کائنات آب و گل و شعور سر دو جہاں عدم لا فلسفہ نہایت فہم پیمبری ذوق نمو کی ہاتھ میں ریکھائیں دم بدم کیا جانیے کہ کتنے برس کا ہے یہ چراغ تہذیب سوختہ ہے ایاغ حروف میں فکر و خرد کی بحر و تلاطم ...

مزید پڑھیے

غیر نصابی تاریخ

شاہی دربار میں خادم‌ خاص کا اعلان تخلیہ رقص جنوں خیز پہ نوخیز بدن شہر میں آدم خاکی کے لہو کی قیمت دینے آئے ہیں مہاراج کے میخانے میں رنگ اور نور کی برسات کے بیچ کون دیکھے گا بے سر کی لاشیں نو بدن جام تحیر کا نیا ذائقہ ہیں جن پہ دو لخت کیے جاتے ہیں ملکوں کے بدن شاہی دربار میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 593 سے 960