شاعری

وہ جو کہیں نہیں ہے

تیرا کوئی دن نہیں تیرا کوئی روپ نہیں ابو سفیان کی ہندہ اس رنگ منچ میں تیری کوئی جگہ نہیں اجداد کے انتقام میں تو کہاں ہے نسلوں کی خون آشام جنگ میں تو جلتی رہی کلیجہ چبانے سے حسین کا خون بہانے تک زمین و آسمان تجھے ملامت کرتے رہے بد بخت و شکست خوردہ ہندہ بنت عتبہ تیرا قبیلہ تیری وحشت ...

مزید پڑھیے

ایک کہانی عشق کی

میں تیرے بہتر ساتھیوں میں نہیں تھا مجھے تو عشق نے منتخب کیا تھا ایک وحشت ناک بھیڑ تھی میرے ارد گرد مگر میں اس بھیڑ میں ہوتے ہوئے بھی کسی وحشت کا حصہ نہ تھا میں تو تنہا تھا اہل حکم کے نزدیک تو ایک باغی تھا اور وہ تمام ہجوم جو فقط ہجوم تھا بے چہرہ بے کردار بے ذہن فقط ہجوم جو اپنی غلط ...

مزید پڑھیے

محبت

ہم مصیبت کے مارے محبت نہیں کر سکتے محبت اگر محبوب کی بانہوں میں بانہیں ڈالے سمندر کے کنارے چلنے کا نام ہے تو ہمیں وہ کنارہ کبھی نہیں ملا محبت اگر محبوب کے کاندھوں پر گھڑی دو گھڑی کے سکون کا نام ہے تو ہمیں وہ کاندھے میسر نہیں ہم تو اپنی آگ میں مستقل جلتے ہیں ہمیں کیا معلوم کسی کے ...

مزید پڑھیے

شرارت نگر

کوئی ایسا اسکول بھی تو کھلے جہاں کاپیاں اور کتابیں نہ ہوں دیواروں پہ لکھا ہو پڑھنا نہیں ترقی کے زینے پہ چڑھنا نہیں رہ علم میں آگے بڑھنا نہیں گلے میرے یہ علم مڑھنا نہیں ہمیشہ رہیں خوش کہ اے چل بلے کوئی ایسا اسکول بھی تو کھلے ہمیں نہ سکھاؤ یہ جی او ٹی گاٹ ہمارا تو غصہ ہے ایچ او ٹی ...

مزید پڑھیے

اردو

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی میں میرؔ کی ہم راز ہوں غالبؔ کی سہیلی دکن کے ولیؔ نے مجھے گودی میں کھلایا سوداؔ کے قصیدوں نے مرا حسن بڑھایا ہے میرؔ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی غالبؔ نے بلندی کا سفر مجھ ...

مزید پڑھیے

گاندھی

وہ حدیث روح پیام جاں جسے ہم نے سن کے بھلا دیا وہ حریم غیب کا ارمغاں جسے پا کے ہم نے گنوا دیا وہ ملک و ملت جاں بہ لب جسے اس نے آب بقا دیا اسی نا سپاس نے ہائے اب اسے جام‌‌ مرگ پلا دیا ہمیں جس نے فتح دلائی تھی اسے خاک و خوں میں ملا دیا ہمیں جس نے راہ دکھائی تھی اسے راستے سے ہٹا ...

مزید پڑھیے

چاند

چاند نے جب رات کو آسمان کے اوج سے ارض پر ڈالی نظر تو اسے تاریکیوں میں غرق دنیا پر ترس آیا بہت اور اس نے ارض پر کچھ توڑ لانے کا ارادہ کر لیا جب وہ اترا آسماں سے تو مقدر نے اسے لٹکا دیا اک صلیب نخل پر اور دنیا سو رہی تھی رات کی آغوش میں چاند کا کیا حال ہے پوچھتا کوئی نہیں

مزید پڑھیے

گھڑی میں عکس انساں

گھر کی بیٹھک میں اک میز پر اک پرانی گھڑی صبح سے شام تک شام سے صبح تک اور پھر اس طرح صبح سے شام تک شام سے صبح تک وقت کے دائرے میں مسلسل کئی سال سے کر رہی ہے سفر منزل انتہا سے بہت دور ہے آج تک وہ مگر اصل میں اس کی منزل نہیں ہے کوئی آج میں دیر تک غور سے اس کو تکتا رہا اور اس میں مجھے عکس‌ ...

مزید پڑھیے

ننھا سپاہی

اسے میں نے جنا ہے دودھ اپنا دے کے پالا ہے یہ خاکی پیرہن اس کا سیا ہے اپنے ہاتھوں سے ستارے اس پہ ٹانکے ہیں جڑے ہیں چاند بھی اس پر مشقت کی ہے دن بھر اور اسے پیسے دئے جن سے خریدی ہے کھلونا رائفل اس نے بڑا نٹکھٹ ہے اپنی رائفل میں ڈال کر گولی مری جانب اٹھاتا ہے لبلبی اس کی دباتا ...

مزید پڑھیے

استری کرتے ہوئے

وہ میری شرٹ جلنے پر ترا بے ساختہ ہنسنا مجھے جب یاد آتا ہے تو جاناں ایسے لگتا ہے تو میرے پاس بیٹھی ہے مجھے محسوس ہوتی ہے مگر میں چھو نہیں سکتا تری آواز کانوں میں ابھی تک گونج اٹھتی ہے وہ میری شرٹ جلنے پر ترا بے ساختہ ہنسنا مجھے جب یاد آتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 592 سے 960