شاعری

بے نشان

ہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ مرد ناپید ہو جائیں گے جنہیں خدا نے ایک درجے اوپر رکھا ذرا ان ماؤں کے دودھ کو جانچو اس کو پی کے پروان چڑھنے والا بچہ بے کردار ہو جاتا ہے کسی ہجڑے یا زنخے پہ لعن طعن مت کرو وہ اپنے سوا کسی کا مذاق نہیں اڑاتا اور اب آنے والی صدیوں ...

مزید پڑھیے

سچ

سچ کہاں ہے تاریخ کے اوراق میں تاریخ سے بڑا دھوکہ تو کچھ نہیں تاریخ تو اپنے اپنے دلالوں کے ما تحت رہی کوئی جھوٹ کس طرح سچ میں تبدیل ہو جاتا ہے اس کا جواب دینے کے لئے سیتا باقی نہ رہی ہر اس موڑ پہ بات ادھوری رہ گئی جو اگر مکمل ہو جاتی تو اہل فساد کا کاروبار کیسے چلتا تو کیا کسی چیز ...

مزید پڑھیے

تضاد

دیوار پہ رینگتا ہوا کیڑا نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے وہ دیوار کے آخری سرے تک پہنچ سکا یا بیچ میں ہی گر گیا دیوار ہی تو اس کے وجود کا سہارا ہے وہ بس رینگنے کی آزادی چاہتا ہے اگر وہ دیوار کے آخری سرے تک پہنچ گیا تو اسے زندہ رہنے کا سکھ ملے گا مگر اس کا زندہ رہنا خطرہ ہے کہ اس رینگتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ان دیکھی زمیں پر

سنو غور سے سنو ایک سوگوار سی دستک تمہارے در پہ کب سے ہو رہی ہے جانتے ہو یہ سوئیوں کی ٹک ٹک تمہیں دھیرے دھیرے بے بس کر رہی ہے گزرنے والا کوئی پل بھی تمہارا نہیں محسوس کرو ان ہاتھوں کی جنبش کو جو تمہاری گرفت سے آزاد ہو رہے ہیں کیسے روک سکو گے اس گھڑی کو جو ماضی کو کچل کر تمہارے مستقبل ...

مزید پڑھیے

حرف مقدر

جمہوریت جمہوریت جمہوریت ایک وحشت ناک حقیقت جہاں آزادی ہو خون چوسنے کی جہاں بڑی بے باکی سے ایک جھوٹ دوسرے جھوٹ سے مقابلہ کر سکے جہاں بدی بدی کے مقابل ہو جہاں یزید کے سامنے کوئی حسین نہ ہو جہاں یزید کے سامنے کوئی حسین نہ ہو جہاں کلیجہ چبانے کی پوری آزادی ہو جہاں عذاب الٰہی کو بھی ...

مزید پڑھیے

کرب آگہی

پھر وہی انداز وہی آواز جیسے ابھی کوئی کہے گا تم میری روشنی ہو وہی آواز جس نے محبت سے نفرت کرنا سکھایا جس نے باور کرایا کہ جسم کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں آدمی سے آدمی کا رشتہ کبھی بھی بے معانی ہو سکتا ہے تب کسی بیتے ہوئے بکھرے لمحے میں دی گئی آواز ڈوب جاتی ہے مگر اب کی بار آواز سے آواز ...

مزید پڑھیے

شاخ عدم

سنو یہ نظم کبھی نہیں ہو سکتی اور تم جانتے ہو جب جذبے ادھورے رہ جائیں تو زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں وقت گزرا کہاں زخم ویسے ہی ابھی رستے ہیں دل بھر آیا اس جگہ جہاں محبت نا محبت سے ملی جب وجود ایک سوال بنا جب روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا جب دعاؤں میں تاثیر نہ رہی قدم بڑھے تو بہت خلوص سے ...

مزید پڑھیے

رقص آگہی

ربا وہ دیوانگی دے مجھے رچاؤں وہ تانڈو کہ ٹوٹ جائے خاموشی کھل جائیں سلے ہوئے لب پاؤں میرے تھرکیں تو زمین کھسک جائے ان قدموں تلے جو لطف اندوز مجھے ایذا پہنچا کے مولا وہ برہنگی دیکھی میں نے جو دبیز پوشاکوں میں چھپا لی گئی مجھے کون سنتا کہ فیصلوں کی کرسی پر معذور دماغ بیٹھے تھے میں ...

مزید پڑھیے

خدا سے کلام

خدائے برتر تیری وحدانیت کی قسم جب بھی تیرے آگے سر بہ سجود ہوئی تو نیت کی کہ زمین کے ان تمام خداؤں کو رد کرتی ہوں جو اپنے عہدوں کے آگے مجھے جھکانے پر بضد رہے اے ہمیشہ رہنے والی ذات جب کوئی جسم خاکی طاقت کے نشے میں کسی کمزور کو کچلتا ہے تب گزرتا وقت اس پر بہت ہنستا ہے اے رازق رحیم ہم ...

مزید پڑھیے

چند سطریں

ایک مچھر کاغذ پہ لکھی تحریر کا خون چوس رہا ہے تم نہیں دیکھتے کیسے کوئی مچھر اہل محنت کی جد و جہد کا خون چوس کر اپنے حرام و جود کا مظاہرہ کرتا ہے کر سکو تو کرو یہ فضا اتنی تعفن کیوں ہے میں تو ہر جگہ ٹھہرا ہوا غلط خون دیکھ رہی ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 591 سے 960