شاعری

اظہار

ہم نے سوچا اب شکستہ گھر مقفل نہیں ہو سکتے کواڑوں کے بغیر اچھے کواڑ اچھی عمارت کے بغیر ہم نے کچھ کالی تجارت سے کمائی کی ادھر کچھ جنگلوں کے چور اپنے یار تھے لکڑی خریدی اور کواڑوں اور کڑیوں میں گھڑی نقشے بنائے اور دیواریں چنیں ہم نے چھتیں ڈالیں نئی تعمیر کو ہر رنگ کی ہر آرٹ کی دھج ...

مزید پڑھیے

سال نو کے لیے ایک نظم

دعائیں اور دعاؤں سے بھری بے انت تحریریں مجھے ہر سال کے ان آخری لمحوں میں ملتی ہیں میرے احباب کے ناموں میں اکثر درج ہوتا ہے خدا محفوظ رکھے سال بھر مجھ کو بلاؤں سے مجھے زہر اب میں لپٹی ہوائیں چھو کے نہ گزریں مجھے موجود اور آنے والے سال کے لمحے مبارک در مبارک ہوں یہی تحریر میں احباب ...

مزید پڑھیے

راضی نامہ

رات کے کالے بدن پہ ستارے ٹانکنے کی مشق اپنی روح پر پیوند لگانے جیسی مشکل نہیں ہوتی آسمان سے لٹکتی شاخوں پر منتوں کے دھاگے کب تک باندھے جا سکتے ہیں بجھے ہوئے کوئلے اور گیلی لکڑی چنگاری نہیں پکڑتے سوئی ہوئی سرد محبت نے کروٹ بدل لی ہے چراغ لے کر سفر پر نکلنے والی تتلی کو چودہ دن ...

مزید پڑھیے

ان چھوئی کتھا

میں کوئی خواب لکھوں کہانی میں بیتی کسی رات کا کہکشاؤں کی نگری سے گزرے ہوئے رات اوڑھے ہوئے اک حسین ساتھ کا اس گگن کی کتھا بھی لکھوں جس پہ نینوں کے جھلمل دئیے جگمگا اٹھے تھے جس پہ بادل ہماری طرح کھلکھلا اٹھے تھے جس پہ کہرے کی چادر تلے چاند چپ چاپ تھا اور کہیں دور مرلی پہ بجتا کوئی ...

مزید پڑھیے

لے بائی ایریا

تم نے غور سے دیکھا تم جہاں پہ ہو اس وقت کل وہاں پہ اک لڑکی بے تحاشا حیرت سے تم کو اپنی آنکھوں میں گھونٹ گھونٹ چنتی تھی تم جو سر جھکا کر یوں بے خبر سے بیٹھے تھے جانتے نہیں ہو نا وقت کی نئی دھن پر نظم ہو رہے تھے تم کیا تمہارے چہرے پر اپنی خالی آنکھوں سے کوئی نظم لکھے گا کیا خبر یہ ہے تم ...

مزید پڑھیے

دسمبر آ گیا ہے

یہاں گوریچ چلتی ہے تو جیسے روح چھلتی ہے زمستاں آ کے رکتا ہے تو اک اک روم دکھتا ہے تعجب ہے مجھے پل پل کہ اب کے سال وادی میں ہماری شال وادی میں سنہری دھوپ اب تک پربتوں پر رقص کرتی ہے ابھی تک سانس کی حدت لبوں کو گرم رکھتی ہے رگوں میں خون کا دوران اب تک ہے دوپہروں سا خزاں کے زرد چہرے پر ...

مزید پڑھیے

سستی نظم

کیسے ماتم کروں کیسے نوحے لکھوں کیسے روحوں کی چیخوں سے نظمیں بنوں جاگتی بین کرتی ہواؤں سے جا کر لپٹ جاؤں کیا کرچی کرچی یہ خوابوں کے اعضا جو بکھرے پڑے ہیں انہیں دیکھ کر پھر پلٹ جاؤں کیا اپنے اقدار سے قول و اقرار سے پیچھے ہٹ جاؤں کیا مجھ کو اقرار ہے میں نے خوابوں میں بچھڑے کئی خواب ...

مزید پڑھیے

بازیافت

ہم جن خوابوں کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں ہم جن راستوں پر چلنا چاہتے ہیں وہ رستے نہ جانے کیوں اجنبی بن جاتے ہیں ہماری آنکھیں انتظار کرنا بھول چکی ہیں ہمارے آنسو خشک ہو چکے ہیں کسی کی یاد اب ہمیں ستاتی نہیں اب نہ کوئی درد ہے نہ کوئی خلش ہم نے کاٹ پھینکے وہ اعضا ...

مزید پڑھیے

اس کے نام جسے تاریکی نگل چکی

کون پڑھ سکتا ہے باطن کو کون چھو سکتا ہے آنکھوں کی ویرانی کو کون دیواروں پہ مرتی دھوپ کو اپنے اندر اتار سکتا ہے جب حواس کوڑھ زدہ ہو جائیں تب جدائی کے زخم سے من اجنبی ہو جاتا ہے وہ میری آواز کے لمس سے بہت دور ہے وہ کون سی بنجر زمین ہے جہاں میرے کسی احساس کسی کیفیت کی رسائی نہیں ...

مزید پڑھیے

جلا

زینب میں تیری باندی تو ایسی با حوصلہ اس شان سے جلتی زمین پر چلی کہ سچ کو ضرورت نہ رہی کسی حیل حجت کی تیرے لئے آسمانوں سے کوئی معجزہ نہیں اترا اجڑا ہوا گھر بے بضاعتی زمین و آسمان کی سختیاں اور تیری استقامت کہ اس قدر خوں ریزی کے بعد بھی یزیدی فتح کا خط نہ لے سکے کسی ایک فرد واحد سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 590 سے 960