شاعری

حسن اور مزدوری

ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ میں ہے بے قرار چوڑیاں بجتی ہیں کنکر کوٹنے میں بار بار چوڑیوں کے ساز میں یہ سوز ہے کیسا بھرا آنکھ میں آنسو بنی جاتی ہے جس کی ہر صدا گرد ہے رخسار پر زلفیں اٹی ہیں خاک میں نازکی بل کھا رہی ہے دیدۂ غم ناک میں ہو رہا ہے جذب مہر خونچکاں کے روبرو کنکروں کی نبض ...

مزید پڑھیے

یہ کون اٹھا ہے شرماتا

یہ کون اٹھا ہے شرماتا رین کا جاگا نیند کا ماتا نیند کا ماتا دھوم مچاتا انگڑائی لیتا بل کھاتا یہ کون اٹھا ہے شرماتا رخ پہ سرخی آنکھ میں جادو بھینی بھینی بر میں خوشبو بانکی چتون سمٹے ابرو نیچی نظریں بکھرے گیسو یہ کون اٹھا ہے شرماتا نیند کی لہریں گنگا جمنی جلد کے نیچے ہلکی ...

مزید پڑھیے

نقاد

رحم اے نقاد فن یہ کیا ستم کرتا ہے تو کوئی نوک خار سے چھوتا ہے نبض رنگ و بو شاعری اور منطقی بحثیں یہ کیسا قتل عام برش مقراض کا دیتا ہے زلفوں کو پیام کیوں اٹھا ہے جنس شاعر کے پرکھنے کے لیے کیا شمیم سنبل و نسریں ہے چکھنے کے لیے اے ادب نا آشنا یہ بھی نہیں تجھ کو خیال ننگ ہے بزم سخن ...

مزید پڑھیے

مفلس

ضعف سے آنکھوں کے نیچے تتلیاں پھرتی ہوئی اوج خودداری سے دل پر بجلیاں گرتی ہوئی لاش کاندھے پر خود اپنے جذبۂ تکریم کی ملتجی چہرے پہ لہریں سی امید و بیم کی عزت اجداد کے سر پر دما دم ٹھوکریں رشتۂ آواز پر لفظوں کی پیہم ٹھوکریں چہرۂ افسردہ پر ٹھنڈا پسینہ شرم کا سست نبضیں بھیک کا ...

مزید پڑھیے

گھٹا چھائی تو کیا

چھٹ گئے جب آپ ہی اودی گھٹا چھائی تو کیا تربت پامال کے سبزے پہ لہر آئی تو کیا جب ضرورت ہی رہی باقی نہ لحن و رنگ کی کوئلیں کوکیں تو کیا ساون کی رت آئی تو کیا ہجر کے آلام سے جب چھٹ چکی نبض نشاط اب ہوا نے خار و خس میں روح دوڑائی تو کیا ہو چکی ذوق تبسم ہی سے جب بیگانگی اب چمن افروز پھولوں ...

مزید پڑھیے

ضعیفہ

اک ضعیفہ راستے میں سو رہی ہے خاک پر مردنی چھائی ہوئی ہے چہرۂ غم ناک پر اور کس موسم میں جب طاعون ہے پھیلا ہوا ذرہ ذرہ ہے وبا کے خوف سے سمٹا ہوا رات آدھی آ چکی ہے بام و در خاموش ہیں اہل دولت لیلئ عشرت سے ہم آغوش ہیں اس قیامت کی ہے طاری ظلمت ہول آفریں شب کے دل میں صبح کا گویا تصور ...

مزید پڑھیے

شکست زنداں کا خواب

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ...

مزید پڑھیے

رشوت

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئے یہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئے اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑیئے روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑیئے بھول کر بھی جو کوئی لیتا ہے رشوت چور ہے آج قومی پاگلوں میں رات دن یہ شور ہے کس کو سمجھائیں اسے کھودیں تو پھر پائیں گے کیا ہم ...

مزید پڑھیے

حسن بیمار

کیا غضب ہے حسن کے بیمار ہونے کی صدا جیسے کچی نیند سے بیدار ہونے کی ادا انکسار حسن پلکوں کے جھپکنے میں نہاں نیم وا بیمار آنکھوں سے مروت سی عیاں جنبش مژگاں میں غلطاں ساز غم کا زیر و بم خامشی میں پر فشاں ایفائے پیماں کی قسم احترام عشق کی رو دل نشیں آواز میں ایک پھیکے پن کا سناٹا ...

مزید پڑھیے

وطن

اے وطن پاک وطن روح روان احرار اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار اے کہ ہر خار ترا رو کش صد روئے نگار ریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیں ہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں پائی غنچوں میں ترے رنگ کی دنیا ہم نے تیرے کانٹوں سے لیا درس تمنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 553 سے 960