حسن اور مزدوری
ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ میں ہے بے قرار چوڑیاں بجتی ہیں کنکر کوٹنے میں بار بار چوڑیوں کے ساز میں یہ سوز ہے کیسا بھرا آنکھ میں آنسو بنی جاتی ہے جس کی ہر صدا گرد ہے رخسار پر زلفیں اٹی ہیں خاک میں نازکی بل کھا رہی ہے دیدۂ غم ناک میں ہو رہا ہے جذب مہر خونچکاں کے روبرو کنکروں کی نبض ...