شاعری

عورت

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے تیرے قدموں میں ہے فردوس ...

مزید پڑھیے

ماحول

طبیعت جبریہ تسکین سے گھبرائی جاتی ہے ہنسوں کیسے ہنسی کمبخت تو مرجھائی جاتی ہے بہت چمکا رہا ہوں خال و خط کو سعیٔ رنگیں سے مگر پژمردگی سی خال و خط پر چھائی جاتی ہے امیدوں کی تجلی خوب برسی شیشۂ دل پر مگر جو گرد تھی تہ میں وہ اب تک پائی جاتی ہے جوانی چھیڑتی ہے لاکھ خوابیدہ تمنا ...

مزید پڑھیے

وصیت

مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دینا جنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیں اور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کو نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہے مگر یہ وقت کی جاسوس نظریں جو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تک اندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تک سویرا ہونے والا ...

مزید پڑھیے

ہولی

ہم سے نظر ملائیے ہولی کا روز ہے تیر نظر چلائیے ہولی کا روز ہے بڑھیا شراب لائیے ہولی کا روز ہے خود پیجئے پلائیے ہولی کا روز ہے پردہ ذرا اٹھائیے ہولی کا روز ہے بے خود ہمیں بنائیے ہولی کا روز ہے سنجیدہ کیوں ہوئے مری صورت کو دیکھ کر سو بار مسکرائیے ہولی کا روز ہے یوں تو تمام عمر ستایا ...

مزید پڑھیے

کرشن‌ کنہیا

جو سن لیتا ہے گوش دل سے افسانہ کنہیا کا وہ ہو جاتا ہے سچے دل سے دیوانہ کنہیا کا نظر آتی ہے جس کو خواب میں وہ صورت دل کش وہ اپنا دل بنا لیتا ہے کاشانہ کنہیا کا سرور و کیف کی ملتی ہے اس کو لذت دائم لگا لیتا ہے ہونٹوں سے جو پیمانہ کنہیا کا تم اپنا ہاتھ پھیلاؤ ذرا ساقی کی محفل میں کہ ...

مزید پڑھیے

کٹھ پتلی

میرے خوابوں کی پتنگ مجھ سے کرتی ہے ان گنت سوال اکثر روٹھی رہتی ہے مجھ سے کبھی آنکھوں سے کبھی نیندوں سے چاہتی تھی کھلا آسماں اونچی اور اونچی اڑان پر پگلی ناداں وہ کیا جانے ڈور تو اس کی ہے اور کسی کے ہاتھ خود تو وہ صرف کٹھ پتلی ہے

مزید پڑھیے

چٹان

بچپن سے ماں کی دی ہوئی سیکھ پر چلی ہوں میں آج بھی چل رہی ہوں اور آگے بھی چلنا چاہتی ہوں پر کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے تھکن کا ایک بوجھ اپنے دل اور دماغ پر اکثر ذہن میں اٹھتے ہیں کئی سوال کیا حاصل ہونا ہے مجھے اس راہ پر کب تک یوں ہی چلتی رہوں گی اپنے چاروں جانب جب دیکھتی ہوں جھوٹ کی ...

مزید پڑھیے

زخم تمنا

ایک پھول کا چمن میں طلب گار میں ہوا وہ پھول کھل رہا تھا سر شاخ آرزو وہ پھول صد ہزار گلستاں میں انتخاب وہ پھول دل کشی کی کہانی کا شوخ باب دوشیزگی کا خواب بہاروں کی آب و تاب ہر پنکھڑی نزاکت و نزہت لئے ہوئے وہ گل تھا عطر‌ دان محبت لئے ہوئے جذبات کی تپش سے مچلنے لگا تھا میں گرمی آرزو ...

مزید پڑھیے

تو گھر سے نکل آئے تو

تو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دے تو باغ میں جس وقت لچکتی ہوئی آئے ساون کی طرح جھوم کے پودوں کو جھمائے جوڑے کی گرہ کھول کے بیلا جو اٹھائے پربت پہ برستی ہوئی برکھا کو نچا دے تو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دے آنکھوں کو جھکائے ہوئے پلو کو اٹھائے مکھڑے پہ لیے صبح کے مچلے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب

کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرو دہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کرو جس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیا بھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقا باغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاں آدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاں ہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پر تیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 551 سے 960