سانپ
یہ سانپ آج جو پھن اٹھائے مرے راستے میں کھڑا ہے پڑا تھا قدم چاند پر میرا جس دن اسی دن اسے مار ڈالا تھا میں نے اکھاڑے تھے سب دانت کچلا تھا سر بھی مروڑی تھی دم توڑ دی تھی کمر بھی مگر چاند سے جھک کے دیکھا جو میں نے تو دم اس کی ہلنے لگی تھی یہ کچھ رینگنے بھی لگا تھا یہ کچھ رینگتا کچھ ...