شاعری

سانپ

یہ سانپ آج جو پھن اٹھائے مرے راستے میں کھڑا ہے پڑا تھا قدم چاند پر میرا جس دن اسی دن اسے مار ڈالا تھا میں نے اکھاڑے تھے سب دانت کچلا تھا سر بھی مروڑی تھی دم توڑ دی تھی کمر بھی مگر چاند سے جھک کے دیکھا جو میں نے تو دم اس کی ہلنے لگی تھی یہ کچھ رینگنے بھی لگا تھا یہ کچھ رینگتا کچھ ...

مزید پڑھیے

احتیاط

اب تم آغوش تصور میں بھی آیا نہ کرو مجھ سے بکھرے ہوئے گیسو نہیں دیکھے جاتے سرخ آنکھوں کی قسم کانپتی پلکوں کی قسم تھرتھراتے ہوئے آنسو نہیں دیکھے جاتے اب تم آغوش تصور میں بھی آیا نہ کرو چھوٹ جانے دو جو دامان وفا چھوٹ گیا کیوں یہ لغزیدہ خرامی پہ پشیماں نظری تم نے توڑا تو نہیں رشتۂ ...

مزید پڑھیے

کوئی یہ کیسے بتائے

کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن ان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے دل برباد سے نکلا ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ!

زندگی نام ہے کچھ لمحوں کا اور ان میں بھی وہی اک لمحہ جس میں دو بولتی آنکھیں چائے کی پیالی سے جب اٹھیں تو دل میں ڈوبیں ڈوب کے دل میں کہیں آج تم کچھ نہ کہو آج میں کچھ نہ کہوں بس یوں ہی بیٹھے رہو ہاتھ میں ہاتھ لیے غم کی سوغات لیے گرمئ جذبات لیے کون جانے کہ اسی لمحے میں دور پربت پہ ...

مزید پڑھیے

پیر تسمۂ پا

میرے کاندھے پہ بیٹھا کوئی پڑھتا رہتا ہے انجیل و قرآن و وید مکھیاں کان میں بھنبھناتی ہیں زخمی ہیں کان اپنی آواز کیسے سنوں رانا ہندو تھا اکبر مسلمان تھا سنجے وہ پہلا انسان تھا ہستناپور میں جس نے قبل مسیح ٹیلی ویژن بنایا اور گھر بیٹھے اک اندھے راجہ کو یدھ کا تماشہ دکھایا آدمی چاند ...

مزید پڑھیے

تاج محل

دوست! میں دیکھ چکا تاج محل ۔۔۔۔۔واپس چل مرمریں مرمریں پھولوں سے ابلتا ہیرا چاند کی آنچ میں دہکے ہوئے سیمیں مینار ذہن شاعر سے یہ کرتا ہوا چشمک پیہم ایک ملکہ کا ضیا پوش و فضا تاب مزار خود بہ خود پھر گئے نظروں میں بہ انداز سوال وہ جو رستوں پہ پڑے رہتے ہیں لاشوں کی طرح خشک ہو کر جو سمٹ ...

مزید پڑھیے

برسات کی ایک رات

یہ برسات یہ موسم شادمانی خس و خار پر پھٹ پڑی ہے جوانی بھڑکتا ہے رہ رہ کے سوز محبت جھما جھم برستا ہے پر شور پانی فضا جھومتی ہے گھٹا جھومتی ہے درختوں کو ضو برق کی چومتی ہے تھرکتے ہوئے ابر کا جذب توبہ کہ دامن اٹھائے زمیں گھومتی ہے کڑکتی ہے بجلی چمکتی ہیں بوندیں لپکتا ہے کوندا ...

مزید پڑھیے

اجنبی

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی تو جہاں تھی اسی جنت میں نکھرتا ترا روپ اس جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم اور دل جس پہ خد و خال کی نرمی بھی نثار خار ہی خار شرارے ہی شرارے ہیں یہاں اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں ...

مزید پڑھیے

آوارہ سجدے

اک یہی سوز نہاں کل مرا سرمایہ ہے دوستو میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروں کوئی قاتل سر مقتل نظر آتا ہی نہیں کس کو دل نذر کروں اور کسے جاں نذر کروں تم بھی محبوب مرے، تم بھی ہو دل دار مرے آشنا مجھ سے مگر تم بھی نہیں، تم بھی نہیں ختم ہے تم پہ مسیحا نفسی، چارہ گری محرم درد جگر تم بھی نہیں تم ...

مزید پڑھیے

عادت

مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیر سر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہا روشنی چاہیئے، چاندنی چاہیئے، زندگی چاہیئے روشنی پیار کی، چاندنی یار کی، زندگی دار کی اپنی آواز سنتا رہا رات دن دھیرے دھیرے یقیں دل کو آتا رہا سونے سنسار میں بے وفا یار میں دامن دار میں روشنی بھی نہیں چاندنی بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 550 سے 960