شاعری

لوری

اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوں نیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جا ایسے بد بخت زمانے میں ہزاروں ہوں گے جن کو لوری بھی میسر نہیں آتی ہوگی میری لوری سے تری بھوک نہیں مٹ سکتی میں نے مانا کہ تجھے بھوک ستاتی ہوگی لیکن اے میری امیدوں کے حسیں تاج محل میں تری بھوک کو لوری ہی سنا سکتی ...

مزید پڑھیے

شرنارتھی

خواب شب کی منڈیروں پہ بیٹھے ہوئے گھورتے ہیں مجھے میری آنکھوں میں بسنے کو بے چین ہیں میں اسی خوف سے رات بھر جاگتا ہوں کہ میں سو گیا گر تو یہ میری آنکھوں میں بس جائیں گے اور کل ان کی قیمت چکانی پڑے گی مجھے

مزید پڑھیے

اکیلے کمرے میں

ابھی سے ان کے لیے اتنی بے قرار نہ ہو کیا ہے مجھ کو بہت بے قرار چھیڑا ہے تمہارے شعر سنا کر تمہارے سر کی قسم سہیلیوں نے مجھے بار بار چھیڑا ہے کشش نہیں ہے تمہارے بنا بہاروں میں یہ چھت یہ چاند ستارے اداس لگتے ہیں چمن کا رنگ نسیم سحر گلاب کے پھول نہیں ہو تم تو یہ سارے اداس لگتے ہیں خبر ...

مزید پڑھیے

اندیشہ

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف چوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گے کانپتے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

آغاز

کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئی چائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہے راکھ کو ہاتھ لگاتی ہو تو جل جاتا ہے ایک بھی کام سلیقے سے نہیں ہو پاتا ایک بھی بات محبت سے نہیں کہتی ہو اپنی ہر ایک سہیلی سے خفا رہتی ہو رات بھر ناولیں پڑھتی ہو نہ جانے کس کی ایک جمپر نہیں سی پائی ہو کتنے دن ...

مزید پڑھیے

فریب

ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہے کہ جیسے ٹاٹ کا میلا پھٹا ہوا پردہ تمہارے ہاتھ کی جنبش سے کانپ جائے گا کہ جیسے تم ابھی دفتر سے لوٹ آؤ گے مجھے تو یاد نہیں کچھ تمہارے سر کی قسم مگر پڑوس کی لڑکی بتا رہی تھی کہ میں اب اپنی مانگ میں افشاں نہیں سجاتی ہوں توے پہ روٹیاں اکثر جلائی ہیں میں ...

مزید پڑھیے

کھنڈر

کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہے کوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکن دل ہے یا قبر سلگتی ہوئی تنہائی کی ذہن ہے یا کسی بیوہ کا اکیلا آنگن اڑ گیا رنگ ہر اک سوچ کے آئینے کا شب کے بے نور دوپٹے سے ستارے ٹوٹے جم گئی گرد خیالوں کی حسیں راہوں پر مدتیں ہو گئیں امید کا دامن چھوٹے یک بیک دور بہت ...

مزید پڑھیے

اعتماد

میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیں میری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گی مشکلیں راہ محبت میں نہ حائل ہوں گی میں نے سوچا تھا کہ اس بار نگاہوں کے سلام آئیں گے اور بہ انداز دگر آئیں گے پھول ہی پھول فضاؤں میں بکھر جائیں گے میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری سانسیں میری بہکی ہوئی ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کیا ہو

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف چوڑیوں پر بھی کئی طنز کئے جائیں گے کانپتے ہاتھوں پہ فقرے بھی کسے جائیں گے لوگ ظالم ہیں ...

مزید پڑھیے

بس

گئے لیٹنے رات ڈھلتے ہوئے اٹھے صبح کو آنکھ ملتے ہوئے نہا دھو کے کپڑے بدلتے ہوئے اٹھائی کتاب اور چلتے ہوئے سویرے کا جب تک کہ اسکول ہے یہی اپنا ہر روز معمول ہے کھڑے ہیں سڑک پر کہ اب آئی بس گزرتا ہے اک اک منٹ اک برس بس آئی تو رش اس قدر پیش و پس کہ اللہ بس اور باقی ہوس بڑھے ہم بھی چڑھنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 546 سے 960