شاعری

کسان

چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہ دفن ہو جاتا ہوں گدگداتے ہیں جو سورج کے سنہرے ناخن پھر نکل آتا ہوں اب نکلتا ہوں تو اتنا کہ بٹورے جو کوئی دامن میں دامن پھٹ جائے گھر کے جس کونے میں لے جا کے کوئی رکھ دے مجھے بھوک وہاں سے ہٹ جائے پھر مجھے پیستے ہیں، گوندھتے ہیں، سینکتے ہیں گوندھنے ...

مزید پڑھیے

چراغاں

ایک دو ہی نہیں چھبیس دیے ایک اک کر کے جلائے میں نے ایک دیا نام کا آزادی کے اس نے جلتے ہوئے ہونٹوں سے کہا چاہے جس ملک سے گیہوں مانگو ہاتھ پھیلانے کی آزادی ہے اک دیا نام کا خوشحالی کے اس کے جلتے ہی یہ معلوم ہوا کتنی بدحالی ہے پیٹ خالی ہے مرا جیب مری خالی ہے اک دیا نام کا یکجہتی ...

مزید پڑھیے

پیار کا جشن

پیار کا جشن نئی طرح منانا ہوگا غم کسی دل میں سہی غم کو مٹانا ہوگا کانپتے ہونٹوں پہ پیمان وفا کیا کہنا تجھ کو لائی ہے کہاں لغزش پا کیا کہنا میرے گھر میں ترے مکھڑے کی ضیا کیا کہنا آج ہر گھر کا دیا مجھ کو جلانا ہوگا روح چہروں پہ دھواں دیکھ کے شرماتی ہے جھینپی جھینپی سی مرے لب پہ ...

مزید پڑھیے

نئے خاکے

نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھنا ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھنا یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے دھڑک رہا ہے فضا کا سینہ کہ زندگی کا معاملہ ہے خزاں رہے یا بہار آئے تمہارے ہاتھوں میں فیصلہ ہے نہ چین بے تاب بجلیوں کو نہ مطمئن کاروان ...

مزید پڑھیے

سروجنی نائیڈو

عزیز ماں مری ہنس مکھ مری بہادر ماں تمام جوہر فطرت جگا دیے تو نے محبت اپنے چمن سے گلوں سے خاروں سے محبتوں کے خزانے لٹا دیے تو نے بنا بنا کے مٹائے گئے نقوش عمل ترے بغیر مکمل نہ ہو سکی تصویر وہ خواب جھانسی کی رانی کو جس نے چونکایا ترا جہاد مسلسل اسی کی ہے تعبیر اسے حیات کا سولہ سنگار ...

مزید پڑھیے

آخری رات

چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے قطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے رات پلکیں آنکھوں پہ جھکتی آتی ہیں انکھڑیوں میں کھٹک رہی ہے رات آج چھیڑو نہ کوئی افسانہ آج کی رات ہم کو سونے دو کھلتے جاتے ہیں سمٹے سکڑے جال گھلتے جاتے ہیں خون میں بادل اپنے گلنار پنکھ پھیلائے آ رہے ہیں اسی طرف جنگل گل کرو شمع، رکھ دو ...

مزید پڑھیے

تلاش

یہ بجھی سی شام یہ سہمی ہوئی پرچھائیاں خون دل بھی اس فضا میں رنگ بھر سکتا نہیں آ اتر آ کانپتے ہونٹوں پہ اے مایوس آہ سقف زنداں پر کوئی پرواز کر سکتا نہیں جھلملائے میری پلکوں پہ مہ و خور بھی تو کیا؟ اس اندھیرے گھر میں اک تارا اتر سکتا نہیں لوٹ لی ظلمت نے روئے ہند کی تابندگی رات کے ...

مزید پڑھیے

الجھنیں

زباں کو ترجمان غم بناؤں کس طرح کیفیؔ میں برگ گل سے انگارے اٹھاؤں کس طرح کیفیؔ سمجھ میں کس کی آئے راز میرے ہچکچانے کا اندھیرے میں چلا کرتا ہے ہر ناوک زمانے کا نگاہ مست کی اللہ رے معصوم تاکیدیں مجھے ہے حکم ساز مفلسی پر گنگنانے کا میں ساز مفلسی پر گنگناؤں کس طرح کیفیؔ ہنسی بھی ...

مزید پڑھیے

نوحہ

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی ڈرتا ہوں کہیں خشک نہ ہو جائے سمندر راکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئی اک بار تو خود موت بھی گھبرا گئی ہوگی یوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئی مانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دئے تھے بے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں ...

مزید پڑھیے

کہرے کا کھیت

وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میں رنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میں تیزی سے جنگلوں میں اڑی جا رہی تھی ریل خوابیدہ کائنات کو چونکا رہی تھی ریل مڑتی اچھلتی کانپتی چنگھاڑتی ہوئی کہرے کی وہ دبیز ردا پھاڑتی ہوئی پہیوں کی گردشوں میں مچلتی تھی راگنی آہن سے آگ بن کے نکلتی تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 547 سے 960