شاعری

زباں تک آ گئے

ذائقے جب ہیم برگر کے زباں تک آ گئے پہلے نا کرتے تھے جو صاحب وہ ہاں تک آ گئے اٹھ کے پانی بھی نہ پیتے تھے جو شاعر اپنے گھر داد کی خاطر وہ زریںؔ کے مکاں تک آ گئے اس گلوکارہ میں ریشم کی تھی کچھ ایسی چمک صدر محفل بھی کھسک کر ریشماںؔ تک آ گئے اس نے اس انداز سے چوما مری تحریر کو میرے ...

مزید پڑھیے

کرسی

سیاسیات میں اونچا ہے نام کرسی کا کیا ہے میں نے بہت احترام کرسی کا گھسیٹا اپنی طرف انتظام کرسی کا یہ میرا کام تھا باقی ہے کام کرسی کا یہ گول میز سے کہتی ہے اب کہ تو کیا ہے چیئر کے سامنے صوفے کی آبرو کیا ہے کوئی کلرک کوئی منیجر کی کرسی ہے جہاں ہے نرس وہیں ڈاکٹر کی کرسی ہے جو ایک ...

مزید پڑھیے

گانے میں کچھ نہیں

میں شعر گائے دیتا ہوں گانے میں کچھ نہیں شہرت ملے تو ہاتھ نچانے میں کچھ نہیں اس نے مجھے وزیر خزانہ بنا دیا اس وقت جب وطن کے خزانے میں کچھ نہیں لوٹا ہے میرے گھر میں بس اک کام کے لیے ورنہ تمہارے ہاتھ دھلانے میں کچھ نہیں تم پہلے میرے ناخن تدبیر دیکھ لو مجھ کو تمہاری پیٹھ کھجانے میں ...

مزید پڑھیے

ایک دیسی حسینہ سے ملاقات

سب وے میں نظر آئی مجھے ایک حسینہ روسی نظر آتی تھی حقیقت میں تھی چینا اندر کی فضا اور تھی باہر کی فضا اور مادہ تھی مگر چال سے لگتی تھی نرینہ بولی کہ مجھے لوگ پکارا کئے میری ڈیڈی نے مرا نام تو رکھا تھا مرینہ شلوار کو نیکر کیا بنیان کو رومال میں راہ ترقی پہ چڑھی زینہ بہ زینہ اب ...

مزید پڑھیے

آن لائن عاشق

نیٹ ایجاد ہوا ہجر کے ماروں کے لیے سرچ انجن ہے بڑی چیز کنواروں کے لیے جس کو صدمہ شب تنہائی کے ایام کا ہے ایسے عاشق کے لیے نیٹ بہت کام کا ہے نیٹ فرہاد کو شیریں سے ملا دیتا ہے عشق انسان کو گوگل پہ بٹھا دیتا ہے کام مکتوب کا ماؤس سے لیا جاتا ہے آہ سوزاں کو بھی اپلوڈ کیا جاتا ہے ٹیکسٹ ...

مزید پڑھیے

کرفیو میں مشاعرہ

کیا جانے اس ظریف کے کیا دل میں آئی تھی کرفیو میں جس نے محفل شعری سجائی تھی اللہ ایسا ذوق جہنم میں ڈال دے کرفیو میں شاعروں کو جو گھر سے نکال دے ایسے میں جب کہ شہر کے سب راستے ہوں بند سڑکوں پہ آ گئے تھے یہ با ذوق شر پسند ایسے میں جب کہ گھر سے نکلنا محال تھا لیکن یہ شاعروں کی انا کا ...

مزید پڑھیے

مسلم امہ کا امریکہ سے شکوہ

کیوں گنہ گار بنوں ویزا فراموش رہوں کب تلک خوف زدہ صورت خرگوش رہوں وقت کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ خاموش رہوں ہم نوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں شکوہ امریکہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو چونکہ اس ملک کا صحرا بھی چمن ہے مجھ کو گر ترے شہر میں آئے ہیں تو معذور ہیں ہم وقت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

عالیؔ جی کی گمشدہ بیاض

بیاض چوری ہوئی ہے جناب عالیؔ کی بیاض چور نے چوری بڑی مثالی کی ضرور چور کوئی سارق ادب ہوگا اسے بیاض چرانے کا خاص ڈھب ہوگا میں ایسے چور کی دانش وری پہ ہوں حیران جو ایک رات میں بن بیٹھا صاحب دیوان جناب عالیؔ کے کالم تھے جتنے مطبوعہ سمجھ کے چھوڑ گیا ان کو نثر ممنوعہ عجیب چور تھا نثری ...

مزید پڑھیے

Schedule

جاب بھی کرنی ہے کھانا بھی پکانا ہے مجھے شعر بھی کہنے ہیں مصرع بھی اٹھانا ہے مجھے مجھ کو ''ٹوپی'' بھی ضروری ہے یہاں ''ٹائی'' بھی جمعہ بھی پڑھنا ہے ڈیٹنگ پہ بھی جانا ہے مجھے ایک گوری سے بھی ملنا ہے سر ساحل عشق ایک خاتون کو اردو بھی پڑھانا ہے مجھے آج ہی میرے ''اٹرنی'' کا بھی فون آیا ...

مزید پڑھیے

چکن فرائیڈ حلال رکھنا

تمہاری دعوت قبول مجھ کو مگر تم اتنا خیال رکھنا بیئر کسی بھی برانڈ کی ہو چکن فرائیڈ حلال رکھنا بھری ہوئی ریل میں چڑھو تو تم اپنی حرمت سنبھال رکھنا نئے زمانوں کا ہے تقاضا پرائے ہونٹوں پہ گال رکھنا ادھر ہے پتھر ادھر ہے لاٹھی ذرا یہ ٹوپی سنبھال رکھنا میں اپنے سر کا خیال رکھوں تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 534 سے 960