شاعری

گیتانجلی

جب بھی گیت سنتا ہوں شام کی ہواؤں کے کتنے پیارے لگتے ہیں یہ درخت یہ پودے جیسے میری گردن میں ڈال کر کوئی باہیں میری دل کی سب باتیں مجھ سے پوچھنا چاہے تم کو کون سا غم ہے کیوں اداس رہتے ہو؟ تم پہ جو گزرتی ہے کہہ سکو تو کہہ ڈالو مجھ سے چاہتے ہیں کچھ یہ ہرے ہرے پتے یہ رفیق تنہائی یہ چمن کے ...

مزید پڑھیے

کتبہ(1)

خدایا! نہ میں نے کہیں سر جھکایا نہ دنیا میں احسان اب تک کسی کا اٹھایا مرے سر پہ جب دھوپ ہی دھوپ تھی اس گھڑی میں نہ ڈھونڈا کہیں کوئی سایہ تو اب تو ہی آ کر مری آبرو کو بچا لے یہی ایک تحفہ ہے جو میں ترے پائے اقدس پہ رکھ دوں گا اور یہ کہوں گا یہی میری پونجی، یہی ہے کمائی مجھے اور کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

نیند پیاری نیند

جب کھلی آنکھوں سے اپنے آس پاس دیکھتا ہوں اپنی دنیا کس قدر محدود و تنگ اور پھر اک جاگتے لمحے میں میں بند کر لیتا ہوں اپنی آنکھ اور دیکھتا ہوں سامنے پھیلا ہوا اک جہان بے کنار دیکھتا ہوں اپنی ہی آنکھوں سے وہ سارے مناظر شہر اور آبادیاں سیکڑوں صدیوں سے جو محفوظ ہیں کس کو دیکھوں کس کو ...

مزید پڑھیے

یاد

اب بھی دروازہ روز کھلتا ہے راستہ میرا تک رہا ہے کوئی میرے گھر کے اداس منظر پر کوئی شے اب بھی مسکراتی ہے میری ماں کے سفید آنچل کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روتی ہیں فاصلہ اور کتنی تنہائی آج کٹتی نہیں ہیں یہ راتیں آسماں مجھ پہ طنز کرتا ہے چاند تاروں میں ہوتی ہیں باتیں اے وطن تیرے مرغ ...

مزید پڑھیے

آئینہ در آئینہ

میں آج سویرے جاگ اٹھا دیکھا کہ ہے ہر سو سناٹا چپ چاپ ہے سارا گھر آنگن باہر سے بند ہے دروازہ سب بھائی بہن بیوی بچے آخر ہیں کہاں ہے کیا قصہ اتنے میں عجب اک بات ہوئی ناگاہ جو دیکھا آئینہ اک آدمی مجھ کو آیا نظر مجھ سے ہی مگر ملتا جلتا دو سینگ ہیں اس کے سر پہ اگے یہ دیو ہے کوئی یا ...

مزید پڑھیے

میں گوتم نہیں ہوں

میں گوتم نہیں ہوں مگر میں بھی جب گھر سے نکلا تھا یہ سوچتا تھا کہ میں اپنے ہی آپ کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں کسی پیڑ کی چھاؤں میں میں بھی بیٹھوں گا اک دن مجھے بھی کوئی گیان ہوگا مگر جسم کی آگ جو گھر سے لے کر چلا تھا سلگتی رہی گھر سے باہر ہوا تیز تھی اور بھی یہ بھڑکتی رہی ایک اک پیڑ جل کر ہوا ...

مزید پڑھیے

میرا گھر میرا ویرانہ

دیدنی ہے یہ مرا گھر مرا ویرانہ بھی اس گزر گاہ پہ کچھ دیر ٹھہر جا سیاح مجھ کو معلوم ہے تو سارا جہاں دیکھ چکا ہاں افق تا بہ افق ساری زمیں دیکھی ہے تو نے ایوان بھی دیکھے ہیں کھنڈر بھی دیکھے وادیاں دیکھیں پہاڑوں کی جبیں دیکھی ہے میری دنیا میں ذرا دیکھ کہ اس دنیا کو دیکھنے والوں نے ...

مزید پڑھیے

کرب

روز جب صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہوں میں راستے میں کوئی دوست مل جائے یا جان پہچان والا میں بڑی گرم جوشی سے اس کی طرف بڑھ کے جاتا ہوں آداب کرتا ہوں اور مسکراتا بھی ہوں (جیسے میں آج کے دن اور گھر پہ سب خیریت ہے) مجھ کو ہر ہر قدم پر کئی طرح کے لوگ ملتے ہیں جو اونچی دکانوں پہ بیٹھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کتبہ(۳)

مری قبر پر ایک کتبہ تو ہے پر مرا نام اس پر نہیں ہے مرا نام جو کچھ بھی لکھا گیا تھا وہ اب مٹ چکا ہے یہ کتبہ سفید اور سادہ سا ہے مگر خالی خالی اسے دیکھ کر ہر اک آنے والا یہ کہتا ہے کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟ بتاؤ کوئی شخص ایسا بھی ہے مرا کوئی ہمدرد میرا معاون جو آئے اور آ کر مرے سادہ کتبے پہ ...

مزید پڑھیے

کتبہ(۴)

وہ اک شخص تھا جو اکیلا تھا اس کا کوئی بھی نہ تھا اک اکائی تھا وہ اور اک دن خود اپنی اکائی میں ضم ہو گیا اس نے مرتے ہوئے اک وصیت لکھی جس میں لکھا تھا! اے آدمی! اے وہ اک شخص جو مرے مرنے کی پہلی خبر سن کے دوڑے اور آواز دے بھائیو آؤ اس کا جنازہ اٹھاؤ اور اس آواز پہ کوئی آواز اس تک نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 520 سے 960