قدرت اور نعمت

جل تھل ہوا ہے آنگن
برسا ہے خوب پانی
کاغذ کی ایک کشتی
ہم کو بنا دو باجی


کشتی پہ بیٹھ کر ہم
نکلیں گے سیر کرنے
دیکھیں گے باغ سارا
وہ دل فریب جھرنے


تازہ ہوا کا جھونکا
کلیوں کا مسکرانا
وہ بھینی بھینی خوشبو
پھولوں کا دل لبھانا


سبزے پہ بکھری شبنم
شاخوں کا جھول جانا
اڑتی پری سی تتلی
بھونروں کا گنگنانا


آنکھوں کو دیں جو ٹھنڈک
گلشن کے یہ نظارے
قدرت کی نعمتیں ہیں
راحت کے یہ سہارے


شاخیں لدیں ہوں پھل سے
چڑیوں کا چہچہانا
یہ زندگی کا منظر
ہم کو سدا دکھانا


لازم ہے ہم پہ بے شک
شکر خدا ادا ہو
فضل و کرم ہو ہم پر
لب پہ سدا دعا ہو