شاعری

آتا ہے یاد مجھ کو

آتا ہے یاد مجھ کو اسکول کا زمانا وہ دوستوں کی صحبت وہ قہقہے لگانا انور عزیز راجو منو کے ساتھ مل کر وہ تالیاں بجانا بندر کو منہ چڑانا رو رو کے مانگنا وہ امی سے روز پیسے جا جا کے ہوٹلوں میں برفی ملائی کھانا پڑھنے کو جب بھی گھر پر کہتے تھے میرے بھائی کرتا تھا درد سر کا اکثر ہی میں ...

مزید پڑھیے

کوا اور کوئل

کسی کوے نے اک کوئل سے پوچھا بتا بہنا کہ ہے یہ ماجرا کیا غضب ہے یہ کہ ہم دونوں ہیں کالے خدا کے فضل سے ہیں عقل والے مگر دنیا کرے کیوں پیار تجھ سے رہیں چھوٹے بڑے بیزار مجھ سے ترا ہی نام ہے سب کی زباں پر ترا جادو تو ہے سارے جہاں پر جو شاعر ہیں لکھیں تیرا ترانہ بتا تیرا ہے کیوں عاشق ...

مزید پڑھیے

گڑیا کی شادی

منی بولی پیاری آشا کتنی بھولی میری گڑیا اچھا ہے تیرا بھی گڈا ہو جائے دونوں کا رشتہ آشا بولی گنجائش ہے لیکن میری فرمائش ہے ہاتھی لوں گی گھوڑے لوں گی میں کپڑے سو جوڑے لوں گی ٹی وی کولر اور اک موٹر سونے اور چاندی کے زیور دینے ہوں گے موٹے پیسے ملتے ہیں سیٹھوں کو جیسے مہمانوں کی خاطر ...

مزید پڑھیے

داستان گو

میر باقر علی تم نے پھر بیچ میں داستاں روک دی شاہ گل فام گنجل طلسموں کی گتھیوں کو سلجھاتا صرصار جنگل کے شعلہ نفس اژدہوں سے نمٹتا بیابان حیرت کی بے انت وسعت کو سر کر کے پہرے پہ مامور یک چشم دیووں کی نظریں بچا سبز قلعے کی اونچی کگر پھاند کر مہ جبیں کے معنبر شبستان تک آن پہنچا ہے اور ...

مزید پڑھیے

پلوٹو

مرے پیارے بچے بڑا ظلم تم پر ہوا ہے بہ یک جنبش سر تمہیں اپنی مسند سے معزول ہونا پڑا ہے سمجھ میں نہیں آتا ایسی خطا کیا ہوئی تم سے مانا کہ تم اپنے بھائیوں سے ٹھگنے تھے یا پھر تمہارا ٹھکانا مقرر نہیں تھا تم اپنی حدوں سے بھٹک کر کسی اور کے دائرے میں در انداز ہوتے تھے میں جانتا ہوں ...

مزید پڑھیے

شکاگو

بڑے ملک کے اک بڑے شہر کی تنگ و تیرا گلی میں کھڑا ہوں فلک اونچے برجوں کے بھالوں سے کٹ کر افق تا افق کرچی کرچی پڑا ہے زمیں پاؤں کے نیچے بدمست کشتی کی مانند ہچکولے کھاتی ہے اور میں کھڑا سوچتا ہوں کہ دستار کو دونوں ہاتھوں سے تھاموں کہ فٹ پاتھ کی گرتی دیوار سے اپنے سر کو بچاؤں

مزید پڑھیے

نیند

ایک کبوتر نیل سمندر کے ساحل پر دم لینے کو اترا پل بھر لیکن خوابوں کی چھتری کو جال سمجھ کر ایسا پلٹا دھوپ چڑھے تک گھر نہیں لوٹا

مزید پڑھیے

دیوار

سمندر خان اک پشتو کا شاعر جا رہا تھا گاؤں سے دور ایک ویرانے میں یک دم اک جھپاکا سا ہوا اور ذہن کے پردے پہ اک دھندلا ہیولیٰ بننے اور مٹنے لگا پر شومیٔ قسمت قلم ہی جیب میں تھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہ سمندر خان رک کر اور اک پتھر پہ ٹک کر میچ کر آنکھوں کو دنیا اور ما فیہا سے بیگانہ ...

مزید پڑھیے

تخلیق

ہوا کو جانے یہ کیا ہوا ہے وہ سر سے پاؤں تک آج کس سبز کپکپاہٹ میں مبتلا ہے وہ یوں درختوں میں چھپ رہی ہے کہ جیسے تخلیق کے عمل سے گزر رہی ہو ہوا کی سانسیں اکھڑ کے پھر سے سنبھل رہی ہیں وجود کیف و سرور اس کا عجیب مستی کے ساتھ مجھ سے گزر رہا ہے ہوا پہ مصرعہ اتر رہا ہے ہوا پہ مصرعہ اتر رہا ...

مزید پڑھیے

بے آباد گھروں کا نوحہ

بے آباد گھروں میں ایسا ہوتا ہے دور کے دیس کو جانے والا کولہو کا ایک بیل بنا ہے ہر پہلی کو ہرکارے کے ہاتھ میں ایک منی آرڈر کا رستہ تکتی باپ کی آنکھیں خوشی خوشی تسبیح کے دانے جلدی جلدی پھیر رہی ہیں بہنیں ڈالر کے تعویذ بنا کر گلے میں ڈالے گھوم رہی ہیں بھائی اپنے یاروں میں پردیس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 51 سے 960