جلا وطنی

آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہ
پپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہے
ہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تک
اکیلا ہی چلتا ہے سورج
اداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطر
بلاتا ہے لیکن
نگاہیں ملانے کا ہر حوصلہ
ہر بدن میں
فقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہے
اب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے رکا ہے
بس اب بلبلوں کے ترنم میں بھی
نوحۂ زندگی کے ستم خیز طوفان ہیں
اب فقط میرے اپنے چہیتوں کی لاشوں کے انبار ہیں
اب تو خر بھی یہاں ہنہناتے نہیں
جنگ بندی نہیں سرحدیں بھی نہیں
اے مری مجھ سے روٹھی ہوئی
میرے پدما کی اے زندہ تر سر زمیں
میری آنکھوں ترے آسمانوں
تری اور مری سرحدوں کے وہ سب فاصلے
جو مگر قربتوں کے سوا کچھ نہ تھے
آج کیوں آنکھ میں اشک بن کے رکے ہیں
بھلا کیوں مجھے
تیری قربت کے سایوں کو دھندلاھٹوں میں بدلتے ہوئے
دیکھنے کے لئے زندہ رہنا پڑا ہے