بغاوت

بڑا آسان ہے میرے لیے
میں آزادی کے گیت گاؤں
اور سڑکوں پر جلسے سجا
انقلاب کے نعرے لگاؤں
بڑا آسان ہے میرے لیے
میں کسی پر ظلم ہوتا پاؤں
تو آنکھوں والا اندھا ہو جاؤں
بڑا آسان ہے میرے لیے
سیاستدانوں پر جھلاؤں
اور کچھ کرنے کے نام پر
اپنی مجبوریاں گناؤں
بڑا آسان ہے میرے لیے
کہ میں زندہ لاش ہو جاؤں
خود ڈروں اور پریوار کو ڈراؤں
پر میرے بھیتر جو ہے ایک روح سی
جب پوچھتی ہے مجھ سے کہاں جاؤں
زندہ لاش ہونا بھی آسان نہیں
میں اسے کیسے سمجھاؤں