شاعری

پندرہ اگست

خوشیوں کے گیت گاؤ کہ پندرہ اگست ہے سب مل کے مسکراؤ کہ پندرہ اگست ہے ہر سمت قہقہے ہیں چراغاں ہے ہر طرف تم خود بھی جگمگاؤ کہ پندرہ اگست ہے ہر گوشۂ وطن کو نکھارو سنوار دو مہکاؤ لہلہاؤ کہ پندرہ اگست ہے آزادیٔ وطن پہ ہوئے ہیں کئی نثار خاطر میں ان کو لاؤ کہ پندرہ اگست ہے رکھو نہ صرف ...

مزید پڑھیے

غالب اور آم

نہ تھے شاعر ہی کچھ بڑے غالب دل لگی میں بھی خوب تھے غالب خوب ہنستے ہنساتے رہتے تھے بڑی پر لطف بات کہتے تھے عام ان کو پسند تھے بے حد یعنی رسیا تھے آم کے بے حد خود بھی بازار سے منگاتے تھے دوست بھی آم ان کو بھجواتے پھر بھی آموں سے جی نہ بھرتا تھا آم کا شوق ان کو اتنا تھا ان کے قصے تمہیں ...

مزید پڑھیے

بار بار کیوں آتی چڑیا

بار بار کیوں آتی چڑیا بار بار کیوں آتی چڑیا آ کر کیوں اڑ جاتی چڑیا ہاں ہاں دیکھو روحیؔ آپا تنکے چونچ میں لاتی چڑیا موسم جب برسات کا آتا گھر اپنا ہے بناتی چڑیا گھونسلے میں جب انڈے دیتی کہیں نہ آتی جاتی چڑیا انڈے سے جب بچے نکلیں سارا دھیان لگاتی چڑیا بچے جوں ہی چوں چوں کرتے دانہ ...

مزید پڑھیے

کیف سے خمار تک

وہ حسین تھی مہ جبین تھی بے گمان تھی بے یقین تھی زندگی کی نرم نرم آہٹیں بے سبب یوں ہی مسکراہٹیں انگلیوں میں بال کو لپیٹنا دامن خیال کو لپیٹنا ہر گھڑی وہی ملنے والیاں بے خیالیاں خوش خیالیاں نرم الجھنیں کم سنی کے خواب انگ انگ میں چھیڑا انقلاب منہ پر اوڑھنی جی کبھی نہیں میں تو ...

مزید پڑھیے

میں نے کچھ نہیں کہا

رات اس کو خواب میں دیکھ کر میں نے کچھ نہیں کہا چار سال کی تھکن جواں ہوئی تشنگی بڑھ کے بے کراں ہوئی ہاں مگر جب آنسوؤں کی نرم گرم تازگی آس پاس دل کشی بکھر گئی اور ایک سایہ سا سرہانے آ کے تھم گیا میں نے یہ کہا کہ اے مرے خدا تو بڑا رحیم ہے اس کا دل دو نیم ہے اس کے رنگ اس کے حسن کو نکھار ...

مزید پڑھیے

رہ گزر کے بعد

میں سوچتا ہوں کہ اس خیر و شر کے بعد ہے کیا فضا تمام نظر ہے نظر کے بعد ہے کیا شب انتظار سحر ہے سحر کے بعد ہے کیا دعا برائے اثر ہے اثر کے بعد ہے کیا یہ رہ گزر ہے تو اس رہ گزر کے بعد ہے کیا

مزید پڑھیے

سالگرہ کی رات

وقت کی بات ہے ہر غنچۂ سربستہ مگر وقت کیا چیز ہے بے پیمانۂ ساختہ ہے یہ شب و روز جوانی یہ مہ و سال رواں روح کیوں جسم کے آگے سپر انداختہ ہے شاخ در شاخ نظر آتی ہے جینے کی امنگ چور کی طرح سرکتی ہے رگوں میں کوئی آگ سوچنے کے لیے شاید یہ مہ و سال نہیں اے مرے دیدۂ بے خواب محبت سے نہ ...

مزید پڑھیے

دیوار سے گفتگو

کسی ہنستی بولتی جیتی جاگتی چیز پر یہ گھمنڈ کیا یہ گمان کیوں کہیں اور آپ کی جان کیوں یہ تو سلسلے ہیں اسی فریب خیال کے غم ذات و خیر و جمال کے وہی پھیر اہل سوال کے اجی ٹھیک ہے یہ وفا کا زہر نہ گھولیے ارے آپ جھوٹ ہی بولئے نہیں سب کے بھید نہ کھولیے کوئی کیا کرے نہ ملیں جو رنگ ہی رنگ ...

مزید پڑھیے

چاند کے مسافر

زندگی کو دیکھا ہے زندگی سے بھاگے ہیں روشنی کے آنچل میں تیرگی کے دھاگے ہیں تیرگی کے دھاگوں میں خون کی روانی ہے درد ہے محبت ہے حسن ہے جوانی ہے ہر طرف وہی اندھا کھیل ہے عناصر کا تیرتا چلے ساحل ڈوبتا چلے دریا چاند ہو تو کاکل کی لہر اور چڑھتی ہے رات اور گھٹتی ہے بات اور بڑھتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

اکیلی بستیاں

بے کس چمیلی پھولے اکیلی آہیں بھرے دل جلی بھوری پہاڑی خاکی فصیلیں دھانی کبھی سانولی جنگل میں رستے رستوں میں پتھر پتھر پہ نیلم پری لہریلی سڑکیں چلتے مناظر بکھری ہوئی زندگی بادل چٹانیں مخمل کے پردے پردوں پہ لہریں پڑیں کاکل پہ کاکل خیموں پہ خیمے سلوٹ پہ سلوٹ ہری بستی میں گندی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 499 سے 960