بار بار کیوں آتی چڑیا

بار بار کیوں آتی چڑیا
بار بار کیوں آتی چڑیا
آ کر کیوں اڑ جاتی چڑیا
ہاں ہاں دیکھو روحیؔ آپا
تنکے چونچ میں لاتی چڑیا
موسم جب برسات کا آتا
گھر اپنا ہے بناتی چڑیا
گھونسلے میں جب انڈے دیتی
کہیں نہ آتی جاتی چڑیا
انڈے سے جب بچے نکلیں
سارا دھیان لگاتی چڑیا
بچے جوں ہی چوں چوں کرتے
دانہ انہیں کھلاتی چڑیا
بچوں کو جب پیاس لگے تو
چونچ میں پانی لاتی چڑیا
پنکھ نکلنے لگتے ہیں جب
اڑنا انہیں سکھاتی چڑیا
جوں ہی بچے اڑنے لگتے
دور کہیں اڑ جاتی چڑیا
اس سے کچھ تو سیکھو بچو
سبق کوئی دے جاتی چڑیا