شاعری

شاعر

تو فقط جسم کے زخموں پہ تڑپ جاتا ہے میں ہر اک قلب میں سو زخم نہاں پاتا ہوں تو فقط رنگ کا دیوانہ ہے بو کا شیدا میں رگ گل میں بھی بلبل کا لہو پاتا ہوں تو فقط دل کی تڑپ رکھتا ہے سینے میں نہاں میں تڑپتا بھی ہوں اور تجھ کو بھی تڑپاتا ہوں تو فقط چلتا ہے منزل تجھے معلوم نہیں میں تجھے راہ عمل ...

مزید پڑھیے

دھند کے پار

دھند کے پرے اک دن روشنی کے ہالے میں وہ مجھے نظر آیا جیسے دیوتا کوئی منتظر ہو داسی کا میں نے روبرو ہو کر اس سے التجا کی تھی دو گے روشنی اپنی مستعار لینی ہے ہر طرف اندھیرا ہے میزبانی کرنی ہے کچھ خراب حالوں کی روح کی کثافت کا دل پہ بوجھ ہے جن کے چند زخم ایسے ہیں جو کہ بھر نہ پائیں گے گر ...

مزید پڑھیے

ہم سے دور

جنگل جنگل بھٹک رہا ہے آدھی رات کا چاند دریا دریا ڈھونڈھ رہی ہے جانے کس کو رات شاید کوئی جھونکا تم کو لے اترے اس پار جنگل ہے آباد اور کسی کٹیا میں روشن مل جائیں وہ خواب لیکن تم کو دیکھ رہا ہے جنگل کے منجدھار اس جنگل سے نکلے بھی تو جنگل ہے اس پار

مزید پڑھیے

کسان

برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے تصورات کی دنیا میں ساتھ لایا ہے ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر سیاہ ابر پہ رہ رہ کے اٹھ رہی ہے نظر پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں ہیں اس کی زیست کے اسرار پا کے ...

مزید پڑھیے

اندھا

سنتا ہے حسن شمس و قمر دیکھتا نہیں یعنی نظام شام و سحر دیکھتا نہیں اس کے بھی پیرہن پہ گناہوں کے داغ ہیں دنیا کو چاہتا ہے مگر دیکھتا نہیں اس کو بھی ہیں نصیب محبت کی لذتیں دل تھامتا ہے تیر نظر دیکھتا نہیں اس کے بھی دل میں آگ بھڑکتی ہے عشق کی جلتا ہے اور رقص شرر دیکھتا نہیں اس کے بھی سر ...

مزید پڑھیے

موت کس نے بانٹی ہے

رات کے اندھیرے میں آج پھر دبے پاؤں سرسراتی سرگوشی پھن اٹھا کے چلتی ہے وقت ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلتا ہے نیند مجھ سے روٹھی ہے بھوک رقص کرتی ہے پیاس چبھنے لگتی ہے سانس کیوں اٹکتی ہے جھانکو میری آنکھوں میں عکس دیکھ لو اپنا اور مجھے یہ بتلا دو کیا تمہیں کھٹکتا ہے کیوں گریزاں ہو مجھ ...

مزید پڑھیے

آہٹ

بوسیدہ سی ٹاٹ کے پیچھے کچی سی اک جھونپڑیا میں برفیلی سی شام اتری ہے تنہائی کا پلو تھامے سہمی سہمی کچھ بیچیں سی وہ کونے میں سمٹی ہے ٹین کی چھت پہ گھنگھرو باندھے چھن چھن کرتی وحشت میں دیوانہ وار بارش ناچتی پھرتی ہے دور کہیں بادل کی گرج میں اک مانوس سی آہٹ ہے جس کی گیلی سرگوشی سے ہر ...

مزید پڑھیے

ری انکریشن

مرے آنگن میں بکھرے زرد پتے مجھے ہم راز لگتے ہیں یہ جب ہلکی ہوا کی سرسراہٹ سے لرزتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ان پہ کوئی بھید سا کھلنے لگا ہے جیسے ان کو باور ہو گیا ہے کہ خود شاخوں نے بے پروائی سے دامن چھڑایا ہے زمیں نے بھی نگاہیں پھیر لی ہیں انہیں معلوم ہے شاید زمیں پیروں تلے ہی جب نہ ...

مزید پڑھیے

چلتی پھرتی دیواریں

کون ہے وہ کچھ نہیں جانتے دیکھ سکتے نہیں دنیا کی دیواروں میں چنے ہوئے پتھر کون میرے خوابوں میں آسمانوں سے اترتا ہے جادو زدہ لوگوں کو دیواروں سے نکال کر زندہ دلوں کی بستیاں آباد کرنا چاہتا ہے مگر یہ لوگ کیسے ہیں بضد ہیں دلوں تک جاتے رستے بند رکھنے پر آنکھوں زبانوں اور دماغوں ...

مزید پڑھیے

میں اور تم

رات کے پچھلے پہر کی سنسان سڑکیں رم جھم برستی بارش کی پھوار میں بھیگتی جیسے جی اٹھی تھیں جب میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے تم نے لمس کی حدت سے بوجھل ہوتی بے ترتیب سانسوں کے بیچ الجھتی اپنی دل نشین آواز میرے کانوں میں تمہارے لیے میری آخری نظم صورت اتاری تھی اس انمول لمحے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 490 سے 960