شاعری

عدم کا خلا

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ لے جائیں ساتھ اپنے یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے کوئی دیکھ کر یہ سوچے کہ یہ ہمارے بھی پاس ہوتی یہاں کوئی راہ رو نہیں ہے نہ کوئی منزل یہاں اندھیرا نہیں اجالا نہیں کوئی شے نہیں ہے گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں اس جگہ ...

مزید پڑھیے

ایک تضاد

کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعد سرخ نغمہ شام کا اک پل میں مر جانے کے بعد ہاں پس از فریاد و قلب دہر کی لرزش کے بعد دن کی تم آلود زرد و لالہ گوں کاوش کے بعد تیرگی کے داغ دل سے کس طرح دھوؤں گا میں جاگتے ہی جاگتے پھر صبح تک روؤں گا میں ہاں وہی میں دن کو جس کی آنکھ تھی اور آفتاب ہاں ...

مزید پڑھیے

الجھن کی کہانی

ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہے ایک اکہرے پر پل پل کو دھیان کا خونیں پہرہ ہے دوسرے دوہرے کے رستے میں تیسرا کھیل کا مہرہ ہے تیسرا تہرہ جو ہے اس کا سب سے اجاگر چہرہ ہے گویا اکہرا پہرا دہرہ مہرا، تہرا چہرہ ہے ایک اکہرا کاغذ دہرا تہرا ہو کر ناؤ بنی ناؤ سے پل بھر بچے بہلے کھیل ...

مزید پڑھیے

سہارا

اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں پھول گر چاہے کہ اپنی رات کے انجام کو ایک ہی لمحے میں یکسر جان لے اس کو لازم ہے ہوا کے سرد جھونکے سے کہے جاؤ اس کے آنسوؤں کو چوم لو آنسوؤں کو چوم کر محسوس یہ ہونے لگا ایک آنسو ایک بوند ایک پل میں ایک بحر نیلگوں بن کے چھا جاتا ہے تنہا ناؤ پر کیا ہوا گر ...

مزید پڑھیے

ترغیب

رسیلے جرائم کی خوشبو مرے ذہن میں آ رہی ہے رسیلے جرائم کی خوشبو مجھے حد ادراک سے دور لے جا رہی ہے جوانی کا خوں ہے بہاریں ہیں موسم زمیں پر! پسند آج مجھ کو جنوں ہے نگاہوں میں ہے میرے نشے کی الجھن کہ چھایا ہے ترغیب کا جال ہر اک حسیں پر رسیلے جرائم کی خوشبو مجھے آج للچا رہی ہے! قوانین ...

مزید پڑھیے

دن کے روپ میں رات کہانی

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں جھلملاتے ہوئے کمزور ستارے یہ کہے جاتے ہیں چاند آئے گا تو سائے بھی چلے آئیں گے رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے رات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کی یا کسی پچھلے جنم کی ہوگی رات کے پھیلے اندھیرے ہیں کوئی سایہ نہ تھا رات کا ...

مزید پڑھیے

جنگ کا انجام

بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گی ساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گی بہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھانا ساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانا بہو کہے اپنا گھر کیسا یاں تو اپنے بھی ہیں پرائے ساس کہے جل بھن کے اسے تو راج محل بھی راس نہ ...

مزید پڑھیے

شراب

فضول ہے یہ گفتگو ہے نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں چلو چلیں چلو چلیں جہاں ہمیں خیال ہی نہ آئے زندگی نظر کی بھول ہے چلو چلیں جہاں یہ در یہ دستکوں پہ دستکیں سنائی ہی نہ دے سکیں جہاں یہ روزن زبوں نگاہ کی مخاصمت نہ کر سکے جہاں کھلی فضا کھلی فضا کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو ...

مزید پڑھیے

نارسائی

رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ پون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات دل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھ رہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات برکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفان پیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان کوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامان بھگون ...

مزید پڑھیے

جاتری

ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی میں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے مگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا ایک آندھی چلی چل کے مٹ بھی گئی آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 461 سے 960