شاعری

رس کی انوکھی لہریں

میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے کوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھے لچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھے مگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا ڈھیر بن کر پڑا ہو میں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے لپٹتے چلے جائیں مجھ ...

مزید پڑھیے

محرومی

میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھا تو اس پر تعجب نہیں ہے نہ ہوگا ازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی ظاہرا بے ضرر شوخ ناگن ابھرتے ہوئے اور لچکتے ہوئے اور مچلتے ہوئے کہتی جاتی ہے آؤ مجھے دیکھو میں نے تمہارے لیے ایک رنگین محفل جمائی ہوئی ...

مزید پڑھیے

کئی ستارے چمک رہے ہیں

لرز لرز کر دمک رہے ہیں مگر جب آئے گا دن کا چیتا اور ان ستاروں کا وقت بیتا تو آسمان کے نکیلے جگنو بنیں گے پل میں ڈھلکتے آنسو سحر کے پردے میں جا چھپیں گے میں اور تو آج ہیں اکٹھے سنا رہی ہے تری جوانی مجھے مرے عشق کی کہانی مگر ہے اک خوف سا فضا میں ہے ایک لرزش سی اس ہوا میں ستارے اب ٹمٹما ...

مزید پڑھیے

سمندر کا بلاوا

یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے کبھی ایک پل کو کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہے بلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آئندہ شاید تھکے گا مرے پیارے بچے مجھے تم سے کتنی محبت ہے دیکھو اگر یوں کیا تو برا ...

مزید پڑھیے

ارتقا

قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ یہ دیکھتے کیا ہو کام میرا نہیں تمہارا یہ کام ہے آج اور کل کا تم آج میں محو ہو کے شاید یہ سوچتے ہو نہ بیتا کل اور نہ آنے والا تمہارا کل ہے مگر یوں ہی سوچ میں جو ڈوبے تو کچھ نہ ہوگا جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ چلو جنازوں کو اب ...

مزید پڑھیے

ایک تھی عورت

یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیں یوں ہی چیخو چلاؤ ہنس دو یوں ہی ہاتھ اٹھاؤ ہوا میں ہلاؤ ہلا کر گرا دو کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہو کبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سے کبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کرو ایسی ...

مزید پڑھیے

کلرک کا نغمۂ محبت

سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں پھر صبح کی دیوی آتی ہے اپنے بستر سے اٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوں لایا تھا کل جو ڈبل روٹی اس میں سے آدھی کھائی تھی باقی جو بچی وہ میرا آج کا ناشتہ ہے دنیا کے رنگ انوکھے ہیں جو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہے اور دائیں پہلو ...

مزید پڑھیے

شام کو راستے پر

رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصود کبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے اور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہے اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں وہ تصور میں مرے عکس ہے ہر شخص کا ہر انساں کا کبھی بھر لیتا ہے اک بھولی سی محبوبۂ نادان کا بہروپ کبھی ایک چالاک جہاں دیدہ و بے باک ستمگر ...

مزید پڑھیے

سرسراہٹ

یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں یہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں یہ موج بادہ ہیں ساغر کی خوابیدہ فضا دل میں اچانک جاگ اٹھتی ہے حقیقت کے جہاں سے کوئی اس دنیا میں در آئے تو اس کے ہونٹ متبسم ہوں شاید قہقہہ اٹھ کر مرے دل کو جکڑ لے اپنے ہاتھوں سے مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ...

مزید پڑھیے

دور کنارا

پھیلی دھرتی کے سینے پہ جنگل بھی ہیں لہلہاتے ہوئے اور دریا بھی ہیں دور جاتے ہوئے اور پربت بھی ہیں اپنی چپ میں مگن اور ساگر بھی ہیں جوش کھاتے ہوئے ان پہ چھایا ہوا نیلا آکاش ہے نیلے آکاش میں نور لاتے ہوئے دن کو سورج بھی ہے شام جانے پہ ہے چاند سے سامنا رات آنے پہ ننھے ستارے بھی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 462 سے 960