رس کی انوکھی لہریں
میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے کوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھے لچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھے مگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا ڈھیر بن کر پڑا ہو میں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے لپٹتے چلے جائیں مجھ ...