آفات مچھروں کی
آیا ہے لے کے موسم سوغات مچھروں کی
ہر سمت ہو رہی ہے برسات مچھروں کی
کم ذات مچھروں کی بد ذات مچھروں کی
ہم خوب جانتے ہیں اوقات مچھروں کی
دیتے ہیں حسب عادت بیماریوں کو دعوت
کر کر کے ہم ضیافت دن رات مچھروں کی
ہے ماجرا یہ کیسا کیا قہر ہے خدا کا
نازل جو ہو رہی ہیں آفات مچھروں کی
آتی ہیں ہنستی گاتی جاتی ہیں گنگناتی
افواج مچھروں کی بارات مچھروں کی
بچھو سے بھی زیادہ زہریلے ہو چکے ہیں
کچھ بڑھ چکی ہے اتنی اوقات مچھروں کی
پھیلا کے کیوں غلاظت آلودگی نجاست
کرتے ہیں پرورش کیوں حالات مچھروں کی
ہر چیز سے انوکھی ہر شے سے ہیں نرالی
اطوار مچھروں کے حرکات مچھروں کی
چلتی ہیں سائیں سائیں جب تیز تر ہوائیں
بنتی ہیں بن بنائے کچھ بات مچھروں کی
اس دور میں ہے قلت ہر چیز کی مگر ہے
افراط مچھروں کی بہتات مچھروں کی
اپنا لہو پلا کر ہم لوگ راہیؔ اکثر
کرتے رہے تواضع دن رات مچھروں کی