شاعری

آسماں خاکداں

راکھ اڑاتی ہوئی اور بن خاکداں کوئی جلتا نہیں اس ستارے کے اس پار بھی کوئی جلتا تو ہوگا کسی آسماں کے تلے خواب نے راستوں پر دیے رکھ دیے میں نے ہر شام دیکھا کہ تم آئے تھے اور مل کر گئے اور ہر شام اک تار کفش و کلہ جل گیا ایک جلتا ہوا سلسلہ جل گیا ہاں مگر اک دیا سا اٹھائے رکھو تار کفش و ...

مزید پڑھیے

فنا کے لیے ایک نظم

مہربانی رات کا پہلا پہر ہے صبح زنداں کی ہلاکت شام وحشت گر کی موت واجب التعظیم ہے وہ شخص جو پہلے مرا خشت سے کوزہ غنیمت کوزۂ وحشت سے وحشت گر کی خاک خاک سے آب نمک بارشوں میں میں نمک کا گھر بناؤں برف باری میں پرانے بانس کا طشت میں سیندور چھدے سکے سجا کر بیچ رستے پر رکھوں رات کے کہرے ...

مزید پڑھیے

ایک اتفاقی موت کی روداد

سراسر اتفاقی موت تھی اس نے کہا تھا مجھ کو جانا ہے سو وہ ایسے گیا جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے سراسر اتفاقاً پاؤں چلنے کے لیے ہوتے ہیں اتنا تو سبھی تسلیم کرتے ہیں تو ایسے میں اگر مٹی کی عریانی شکایت گر بھی ہو جائے تو اس پر اور مٹی ڈال دیتے ہیں سو ہم نے ڈال دی مٹی پہ مٹی اتفاقاً یہ تو ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے لوگ ہیں

یہ کیسے لوگ ہیں جو سنگ بستہ جالیوں کی طرح آنکھیں بند رکھتے ہیں سرہانے لڑکیوں کے رات کی بکھری کتابیں ہیں اور ان کے خواب اندھیروں کے درکتے روزنوں سے دھڑدھڑاتی بلیوں کی طرح گھر گھر پھیل جاتے ہیں میں ساری رات آوازوں کا مبہم شور سنتا ہوں اور آنکھیں بند رکھتا ہوں اور ان کے ساتھ ہو ...

مزید پڑھیے

بات نہیں ہو سکتی

وہ جو کہتے ہیں کسی ٹیڑھ بنا کوئی بات نہیں ہو سکتی سو آن کی آن میں ڈور پلٹ کر ماہی گیر پہ آن پڑی انہی موسم میں کوئی تم سا دریا پار سے آیا تھا اور ساری بستی روئی تھی اس دن بستی میں رونے والوں کا دن تھا اور تم نے کہا تھا یہ لوگ سمندر متھ کر پیتے تھے اب روتے ہیں اور تم نے کہا تھا ان لوگوں ...

مزید پڑھیے

شہر میں

بانس کی کونپلوں کی طرح رات کی رات بڑھتی ہوئی لڑکیو آئنے کے ہر اک زاویے سے الجھتی ہوئی لڑکیو طشت سیماب جھلکاتی جھکتی ہوئی لڑکیو نت نئے موسموں کی طرح مجھ پہ بیتی ہوئی لڑکیو میرے ہونے کو تسلیم کر لو تو آگے بڑھیں خواب در خواب بس ایک ہی خواب ہے میرے ہونے کا خواب بھاگتے راستوں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

پرانے تماشے

اترتی شام سے پوچھیں گے جگنوؤں کا مزاج جنوں کے شہر میں راتوں کا کیا ہوا آخر افق پہ یوں تو سمٹ آئے تھے نئے منظر سلگتی آنکھوں میں حسرت ہراس تنہائی تمام شہر تماشا بنا تھا حیراں تھا مگر جب آنکھ کھلی وہی پرانے تماشے تھے اور مداری نئے

مزید پڑھیے

تسلی

اترتی رات کے زینے سے لگ کر سوچتا ہوں صبح جب ہوگی میں اپنی جستجو میں چل پڑوں گا ساعتوں کے ٹوٹتے صحرا سے نکلوں گا نئی منزل نیا جادو اجالا ہی اجالا دور تک انسانیت کا بول بالا خیال اچھا ہے خود کو بھول جانے کا چلو یوں بھی تو کر دیکھیں

مزید پڑھیے

البم

عمر رفتہ کے ریشمی لمحے دھند میں کھو گئے دھواں بن کر نغمہ و رنگ کے سبھی موسم رہ گئے ذہن میں خزاں بن کر بن گیا حال کتبۂ ماضی کیسی دنیا ہے اس کا ہر منظر سنگ بستہ عذاب لگتا ہے آنسوؤں کی کتاب لگتا ہے

مزید پڑھیے

ہم زاد

دوستوں کی رفاقتیں بھی درست بھول جانے کا غم سوا لیکن یاد رکھیں تو وسوسے ہیں بہت آنکھ چہرہ نظر کہاں سے لائیں اپنے ہی گھر چلیں ملیں سب سے ہم میں اک دوسرا ہی بستا ہے سچ ہے وہ ہم سبھوں سے اچھا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 455 سے 960