شاعری

رس بھرے ہونٹ

رس بھرے ہونٹ پھول سے ہلکے جیسے بلور کی صراحی میں بادۂ آتشیں نفس چھلکے جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے ایک شبنم کا ارغواں قطرہ شفق صبح سے درخشندہ دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے رس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں.....! یوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی رات دن کا تھکا ہوا راہی پاؤں چھلنی نگاہ متزلزل وقت ...

مزید پڑھیے

سائے

ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں جب تری یاد نہیں آتی ہے درد سینے میں مچلتا ہے مگر لب پہ فریاد نہیں آتی ہے ہر گنا سامنے آ جاتا ہے جیسے تاریک چٹانوں کی قطار نہ کوئی حیلۂ تیشہ کاری نہ مداوائے فرار ایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر جب تری راہ گزر میں سائے ہر جگہ چار طرف تھے چھائے تو نہ تھی ...

مزید پڑھیے

راہرو

آج میں دور بہت دور نکل آیا ہوں بے طلب تگ و دو دل میں کاوش نہ تلاش نہ کوئی خواہش مخفی نہ تمنائے معاش ہوس خام نہ سودائے تمام یوں ہی چلتا ہوا چلتا ہوا آ پہنچا ہوں پے بہ پے گام بہ گام کس قدر دور نکل آیا ہوں اس سے پہلے بھی چلا ہوں میں نئی راہوں پر شاہراہوں سے پرے خار زاروں میں گھسٹتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

آدمی کا انساں ہونا

صدیاں قطار در قطار کھڑی ہیں اپنی جگہ ساکت و جامد بڑے تجسس سے دیکھتی ہیں ایک دوسرے سے باتیں کرتی ہیں اسی ایک مسئلے پر جسے حل نہ کر پانے کا افسوس ہے پیشانی پہ بنتی بگڑتی لکیروں کی شکل میں نمایاں ہے جسے حل کرنے کے لئے اللہ نے کتنے ہی نبی اور اوتار زمین پر بھیجے انھوں نے اپنے کلام سے ...

مزید پڑھیے

دار و رسن

عجیب کوچۂ رشک جناں تھا دہلی کا بہشت کہتے ہیں جس کو مکاں تھا دہلی کا دماغ بر سر ہفت آسماں تھا دہلی کا خطاب خطۂ ہندوستاں تھا دہلی کا غضب ہے اس کو کوئی شادماں نہ دیکھ سکا زمیں نہ دیکھ سکی آسماں نہ دیکھ سکا ہزاروں زلف پری وش کے یاں تھے سودائی ہزاروں میکش و میخوار و مست و ...

مزید پڑھیے

گریبان

میں نے گلاب کے پودے سے پوچھا آج کل تم پر پھول کم اور کانٹے زیادہ آ رہے ہیں کہنے لگا میں تمہارا بے دام غلام ہوں ان دنوں تم دشمنی کے کانٹے بونے میں مصروف ہو تمہیں کانٹوں کی ضرورت ہے جس روز تم دوستی کے سفر پر نکلو گے دیکھنا میں کیسے پھولوں کے انبار لگا دوں گا میں نے فاختہ سے کہا دنیا ...

مزید پڑھیے

جواز

پیارے بچو پتا ہے خدا نے تمہیں کیوں بنایا ہے اس لیے کہ تم وجہ بے وجہ مسکراؤ اور الجھنوں اور بکھیڑوں میں پڑے ماں باپ کو مسکرانے پر مجبور کر دو پیارے لڑکو پتا ہے خدا نے تمہیں کیوں بنایا ہے اس لیے کہ تم ہر ہر اس مہم میں بے خطر کود پڑو جو بڑے سر کرنا چاہتے تھے لیکن بزدلی یا خوف کی وجہ ...

مزید پڑھیے

شانہ بہ شانہ

مجھے کچھ نہیں معلوم کیا چاہتی ہو تم مجھ سے میرے پاس ہے کیا جو میں دے سکتا ہوں کسی کو طبل و علم ہے پاس اپنے نہ ملک و مال اور پھر کوئی بہت خاص چیز ہی ہونی چاہیے تمہیں نظر کرنے کو تو کیا نہیں ہے تمہارے پاس پہلے سے حسن ایسا کہ خدا بھی خوش ہو گیا ہوگا تمہیں بنا کر رونق سی لگ جاتی ہے بیٹھ ...

مزید پڑھیے

گونگی التجا

رب العزت وہ زمین جسے تو نے بنی آدم کے لیے جنت بنایا تھا اور امن کے گہوارے کا نام دیا تھا جہاں ہماری آزمائش کے لیے شجر ممنوعہ کے ساتھ ساتھ ہماری ربوبیت کے لیے تو نے شجر حیات بھی اگایا تھا ہماری وہ زمین پانی ہوا اور خشکی کی مخلوق کا مشترکہ گھر تھی اس پیاری زمین پر آباد ساری مخلوق ...

مزید پڑھیے

من و تو

کتنی اونچی اٹھا دی ہے ہجر کی سنگین دیوار تو نے لمبی بہت لمبی مشرقین سے مغربین تک کوئی روزن ہے نہ دروازہ اس میں لگتا ہے اپنے معجز نما ہاتھوں سے بنائی ہے خود تو نے بالکل تیری طرح اور ہے نہ چھور اس کا دعویٰ تو کرتا ہے کہ نزدیک تر ہے تو میری شہ رگ سے بھی اور پھر جدائی کے یہ سارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 448 سے 960