شاعری

جمہوریت زندہ باد

اپنے بھارت میں جو اجالا ہے اسے جمہوریت نے ڈھالا ہے یہ حقیقت ہے ساری دنیا سے اپنا دستور بھی نرالا ہے سب کو یکساں حقوق جس نے دیے اس میں موجود سب حوالہ ہے کیا ہی چھبیس جنوری کا یہ دن عظمت و احتشام والا ہے ہم سبھی احترام کرتے ہیں آج کا دن بلند و بالا ہے ہوتا جاتا ہے ملک پھر بھی ...

مزید پڑھیے

ابھی بھوک سے ایک چوہا مرا ہے

مروت ہے دل میں نہ پاس وفا ہے نہ ترچھی ہیں نظریں نہ بانکی ادا ہے جوانی مصیبت بڑھاپا بلا ہے لڑکپن کو دیکھو تو مرجھا گیا ہے گرانی سے دنیا کو باور ہوا ہے کہ اپنے زمانے کا حافظ خدا ہے نہ مٹکے میں آٹا نہ ڈبوں میں دالیں بتائے کوئی لوگ کس کو پکا لیں یہ فرمان حاکم ہے کس طرح ٹالیں کہا ہے ...

مزید پڑھیے

چھچھوندر

لیٹیے گر آپ ننگے تخت پر ریڑھ کی ہڈی کو ہوگا فائدہ ایک مدت سے یہی ہے قاعدہ لیکن اس یگ کا طریقہ اور ہے بات زیر غور ہے تخت پر لیٹیں تو آ جاتا ہے دست اس لیے سب لوگ ڈھیلی چارپائی پر ہیں مست سختیاں برداشت کر پاتے نہیں جی نہیں پاتے ہیں مر پاتے نہیں زندگانی سانپ کے منہ کی چھچھوندر ہو گئی

مزید پڑھیے

نقلی آنکھ

گفتگو نے لی کروٹ مسکرا اٹھیں کلیاں کھلکھلا اٹھے احساس نفس کے پرندے کی پھر ذرا بڑھی پرواز میں نے پھر اسے چھیڑا اس نے پھر مجھے چھیڑا عین چھیڑ خوانی میں جب ہوا جنوں بیدار ایک آنکھ دلبر کی ٹپ سے گر پڑی نیچے

مزید پڑھیے

شوہر نے آج۔۔۔

ایک عورت بہت اداس ملول نیل گالوں پر ہونٹ میں سوجن بال بکھرے ہوئے پریشاں سے اس کے شوہر نے آج مارا ہے لوگ کہتے ہیں رات غائب تھی دور نو کے لطیف گوشوں سے نابلد وہ غریب شوہر ہے بیویاں گھر سے رات کو باہر رہ سکیں تو یہ عین عزت ہے آج کے دور کی شرافت ہے اس نئے دور کی نئی تہذیب شوہر بے شعور ...

مزید پڑھیے

افسر اور گھوڑا

مدت سے یہی دنیا کہتی چلی آئی ہے بچتے رہو ہر لمحہ افسر کی اگاڑی سے گھوڑے کی پچھاڑی سے لیکن یہ نیا یگ ہے اس دور میں بتلاؤ کیسے کوئی بچ پائے افسر کبھی گھوڑا ہے گھوڑا کبھی افسر ہے

مزید پڑھیے

میں نے یہ کہا کب کہ منانے کے لیے آ

میں نے یہ کہا کب کہ منانے کے لیے آ مجھ کاٹھ کے الو کو پھنسانے کے لیے آ میرے لیے آ اور نہ زمانے کے لیے آ بچے کو فقط دودھ پلانے کے لیے آ ہر روز وہی گوشت وہی گوشت وہی گوشت اک دن تو کبھی دال پکانے کے لیے آ جو حسن جوانوں کے لیے وقف ہے اس کو اک بار تو بوڑھوں کو دکھانے کے لیے آ دن میں ...

مزید پڑھیے

علامت کے پس منظر میں

بے قرار پھنس گئی ماضی کے تہہ خانے میں مستقبل کی ٹانگ نبض دوراں نیم کے سائے تلے بیٹھی رہی اور پھر قلب مضطر میں ککرمتے اگے چشم فطرت کا چرا کر لے گیا کاجل کوئی کنکھجورے سانس سے چپکے ہوئے گھورتے ہیں مرمریں ادراک کو کھیت میں لیٹی ہے دیوانے کی روح کود جاؤ آنسوؤں کی جھیل میں آج دھرپد گا ...

مزید پڑھیے

لنگوٹی چھین لی

لوگ کہتے پھر رہے ہیں دوستو محنت کشوں کو اک مساواتی کسی استاد نے دے تو دی روٹی لنگوٹی چھین لی

مزید پڑھیے

نہ دی انگریز نے غالبؔ کو پنشن

بہت ہوں جان سے بیزار یارو ہوئی تعلیم دل پر بار یارو مجھے بننا نہیں فن کار یارو ثریا سے ہے مجھ کو پیار یارو مجھے کرنی ہے دل کی بات منشن اٹنشن اے دل ناداں اٹنشن ہے بھوتک شاستر میں اک چیز لائٹ کریں گر تجربہ جاتی ہے سائٹ عجب ہوتی ہے کچھ رنگوں میں فائٹ کہ مل کر سات ہو جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 431 سے 960