شاعری

بقراط بہت کھاتا تھا

ہم نے محبوب کے ایوان میں جا کر دیکھا چین میں مصر میں ایران میں جا کر دیکھا روس میں شام میں سوڈان میں جا کر دیکھا اور پھر خانۂ سلطان میں جا کر دیکھا نوش و خوردن ہے نوشتہ ترے دیوانے کا جب ہوئی خشک تو محبوب کی کاکل نے کہا وہ جو میکے گئیں ان سے یہی بابل نے کہا اوکھلے والوں سے جمنا کے ...

مزید پڑھیے

ہم کو دیکھے جو آنکھ والا ہو

ہم سدا ڈفلیاں بجاتے ہیں ساری دنیا کو ورغلاتے ہیں اور سب کو چغد بناتے ہیں غیب کی بات ہم بتاتے ہیں منفرد اور بے بدل ہیں ہم ہاں میاں انٹلکچول ہیں ہم ٹانگ گرنے سے ٹوٹ جائے تو آنکھ مرچوں سے پھوٹ جائے تو عقل کا ساتھ چھوٹ جائے تو سر پہ ڈاسن کا بوٹ جائے تو ہم عطارد وہیں اور زحل ہیں ہم ہاں ...

مزید پڑھیے

روشن خیالی

دل و دماغ تصور مزاج حسن بیاں کبھی کے ہو چکے روشن تجلیوں کے طفیل تجلیاں جنہیں روشن خیالیاں کہیے عظیم ذہن جب اس روشنی میں ڈوب چکا تو پھر عظیم تصور وجود میں آئے انہیں کی چشم کرم کے طفیل میں بے شک جدید دور کی روشن خیالیاں پایاؔ نئے سماج کے کولھوں پہ رقص کرتی ہیں

مزید پڑھیے

محبت مر نہیں سکتی

وہی بے تابیاں دل کی وہی پھرتا ہوا دریا وہی کچا گھڑا ہے منتظر سچ کے مسافر کا وہی شب کی سیہ چادر چھپی ہیں سازشیں جس میں عزیزوں کی پرانے دوستوں کی ہم جلیسوں کی وہی سرگوشیاں سیل ستم کی وہی منظر جو ہوتا ہے ہمیشہ روح فرسا حادثوں کا پیش خیمہ سا وہی سارے قرینے سارے حیلے ہیں بہم اب کے جو ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی اک منچلے گبرو کا روپ زندگی نوخیز دوشیزہ کا رنگ زندگی اک ساتھ مرنے کا خیال زندگی اک ساتھ جینے کی امنگ زندگی فکر و نظر کی روشنی زندگی ذات الٰہی کا شعور زندگی اک مطمئن صوفی کی رمز زندگی شب خیز عابد کا سرور زندگی قرب کنیز خوبرو زندگی آہنگ‌ و آب آتشیں زندگی وقف سرود و حسن و ...

مزید پڑھیے

زاویے

مجھے تو بے سکوں سا کر گیا اس شوخ کا کہنا حقیقت کے ترازو میں کبھی تولا ہے جذبوں کو محبت کے تقدس کا بھرم رکھا کبھی تو نے کبھی بے ساختہ لپٹا ہے محروم صباحت سے کبھی حال کجی پوچھا ہے مسحور قباحت سے کبھی دشت جنوں پاٹا ہے جذبات ارادت سے کبھی صرصر سے تلخی کا سبب پوچھا متانت سے کبھی ترجیح ...

مزید پڑھیے

بچے کی حسرت

خدا دیتا ہمیں بھی پر تو سوئے آسماں جاتے پرندوں کی طرح اڑ کر یہاں سے ہم وہاں جاتے کبھی اس ڈال پر رہتے کبھی اس ڈال پر جاتے درختوں سے کبھی اڑ کر کسی چھت پر اتر جاتے سفر کے واسطے محتاج گاڑی کے نہ ہم ہوتے نہ نظروں میں کسی بھی راستے کے پیچ و خم ہوتے نہ ہوتی کوئی پابندی نہ ہوتی فکر سرحد ...

مزید پڑھیے

کباڑ خانہ

اک دن اپنے کمرے میں میں بیٹھا بیٹھا سوچ رہا تھا جتنی ہیں بے کار کی چیزیں سب کو آج میں یکجا کر لوں اور کباڑی کو دے آؤں گھر میں اک کمرہ ہے جہاں پر بہت سی چیزیں پڑیں ہوئی ہیں جس میں میرے کام کا کچھ بھی نہیں ہے اک لاٹھی ہے اک بٹوہ ہے کتھے چونے کی ڈبیا ہے کہیں سروتا پڑا ہوا ہے ٹنگی ہے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی یہ دل کرتا ہے یادیں پھر سے تازہ کر لوں کچے زخموں کو پھر خرچوں چیزیں پھینک شیشہ توڑوں دیواروں سے سر ٹکراؤں گھر کے اک کونے میں چھپ کر زانو پر میں سر کو رکھ کر آنکھوں سے آنسو ٹپکاؤں آہ بھروں اور روتا جاؤں روتے روتے تجھ کو پکاروں کبھی کبھی یہ دل کرتا ہے وہی پرانی بک پھر ...

مزید پڑھیے

جلد بازی

آج پھر میں آفس سے گھر کو لیٹ پہنچا تھا ڈور بیل بجاتے ہی جھٹ پٹا کے آئی وہ اس نے مسکرا کے پھر بیگ ہاتھ سے لے کر کہہ دیا کے فریش ہو جاؤ میں نے آپ کی خاطر آپ کی وہ فیوریٹ ڈش آج پھر پکائی ہے میری بھوک حد درجہ بڑھ گئی تھی سو میں نے آج کھانا کھانے میں پھر سے جلد بازی کی بھول بیٹھا کے وہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 432 سے 960