شاعری

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے جب دلوں میں داغ چمکتے تھے جب پلکیں شہر کے رستوں میں اشکوں کا نور لٹاتی تھیں جب سانسیں اجلے چہروں کی تن من میں پھول سجاتی تھیں جب چاند کی رم جھم کرنوں سے سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے جب ایک تلاطم رہتا تھا اپنے بے انت خیالوں ...

مزید پڑھیے

تمہیں کیا

تمہیں کیا زندگی جیسی بھی ہے تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر آئنے چمکے تمہاری دید سے خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں سبھی ...

مزید پڑھیے

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی ایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترے ہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیر جس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھی جیسے خوشبو کسی جنگل میں ...

مزید پڑھیے

تھک جاؤ گی

پاگل آنکھوں والی لڑکی اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی کانچ سے نازک خواب تمہارے ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی سوچ کا سارا اجلا کندن ضبط کی راکھ میں گھل جائے گا کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم کھل جائے گا تم کیا جانو خواب سفر کی دھوپ کے تیشے خواب ادھوری رات کا دوزخ خواب خیالوں کا ...

مزید پڑھیے

دسمبر مجھے راس آتا نہیں

کئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسل دل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے چٹختے ہوئے خواب آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیں مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو بے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر اب تک وہی جستجو کا سفر کر رہا ...

مزید پڑھیے

دل دکھتا ہے

دل دکھتا ہے آباد گھروں سے دور کہیں جب بنجر بن میں آگ جلے دل دکھتا ہے پردیس کی بوجھل راہوں میں جب شام ڈھلے دل دکھتا ہے جب رات کا قاتل سناٹا پر ہول فضا کے وہم لیے قدموں کی چاپ کے ساتھ چلے دل دکھتا ہے

مزید پڑھیے

مجھے اب ڈر نہیں لگتا

کسی کے دور جانے سے تعلق ٹوٹ جانے سے کسی کے مان جانے سے کسی کے روٹھ جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو آزمانے سے کسی کے آزمانے سے کسی کو یاد رکھنے سے کسی کو بھول جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو چھوڑ دینے سے کسی کے چھوڑ جانے سے نا شمع کو جلانے سے نا شمع کو بجھانے سے مجھے اب ڈر نہیں ...

مزید پڑھیے

مرے لیے کون سوچتا ہے

مرے لیے کون سوچتا ہے جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے جدا جدا سب کی صورتیں ہیں سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے خواہشوں کے پنجر ہوس کے ٹکڑے حواس ریزے ہراس کنکر تلاشنا ہیں سبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میں قطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہے سبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا ...

مزید پڑھیے

ہوا اس سے کہنا

ہوا صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا کہ ہم جاگتے ہیں ہوا اس سے کہنا کہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیں رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیں انہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ ...

مزید پڑھیے

وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے

بہت دنوں سے وہ شاخ‌ مہتاب کٹ چکی ہے کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے بہت دنوں سے وہ گرد احساس چھٹ چکی ہے کہ جس کے ذروں پہ تم نے پلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھے اور اب تو یوں ہے کہ جیسے لب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہ طویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 430 سے 960