نیند آتی ہے تو لگتا ہے کے تم آئے ہو
نیند آتی ہے تو لگتا ہے کے تم آئے ہو آنکھ کھولوں تو کہیں دور تلک کوئی نہیں ہوں مقید میں کسی گوشۂ تنہائی میں ہر طرف پھیلی ہوئی دھند نظر آتی ہے سامنے تم سے بچھڑنے کا وہی منظر ہے آنکھ میں چبھتا ہے یہ میل کا پتھر سن لو لوگ کہتے ہیں مناظر تو بدل جاتے ہیں کچھ قدم چھوڑ کے ہر یاد کا دامن ...