شاعری

نیند آتی ہے تو لگتا ہے کے تم آئے ہو

نیند آتی ہے تو لگتا ہے کے تم آئے ہو آنکھ کھولوں تو کہیں دور تلک کوئی نہیں ہوں مقید میں کسی گوشۂ تنہائی میں ہر طرف پھیلی ہوئی دھند نظر آتی ہے سامنے تم سے بچھڑنے کا وہی منظر ہے آنکھ میں چبھتا ہے یہ میل کا پتھر سن لو لوگ کہتے ہیں مناظر تو بدل جاتے ہیں کچھ قدم چھوڑ کے ہر یاد کا دامن ...

مزید پڑھیے

ایک ٹھنڈی اوس میں لپٹی نظر کی روشنی ہے

ایک ٹھنڈی اوس میں لپٹی نظر کی روشنی ہے اور لبوں پر گزرے وقتوں کی پرانی چاشنی ہے اور میں ہوں فلسفہ رچنے کی دھن میں بستر پر سلوٹیں ہیں ادھ کھلی آنکھوں میں خوابوں کی دھڑکتی کروٹیں ہیں اور میں ہوں خوشبوؤں سے تر ہوا میں کوئی بوجھل شام ڈھلتی رنگ سارے ہو گئے بد رنگ پھر بھی سانس چلتی اور ...

مزید پڑھیے

اور تم دستکیں دیتے رہو

جانے کیا بات ہے کیوں نیند نہیں آتی ہے رات بوجھل ہے ستاروں کی نظر بیٹھی ہوئی شب کے خاموش مناظر ہیں عجب خوف زدہ بے اماں جانے کسے ڈھونڈھنے کی ضد میں عبث دور افق پار کہیں دور نکل جاتی ہے صبح اٹھتی ہے تو بچپن کی امنگیں لے کر آج آئے گا کوئی رات گئی بات گئی دن گزرتا ہے کسی آس کے پہلو میں ...

مزید پڑھیے

پہلی کرن کا بوجھ

سگریٹ کا ایک لمبا کش اور کھانسی گھونٹ گھونٹ چائے پگھلتے خوابوں کے موم گدلے کاغذ پر دنیا کے اعمال کا پیلا زہر ہم کتنے اچھے تھے جب ہماری پیٹھ کے نیچے بستر تھا آؤ چلو آئینے سے پوچھیں ابھی کتنا سفر باقی ہے؟ اس کو تو ایک ہی جواب ہے اپنے چہروں کو برداشت کرو باہر نکلو تو ماسک لگانا مت ...

مزید پڑھیے

رشتے

میں کیا جانوں کون ہے سورج کس نگری کا باسی ہے کیسا سر چشمہ ہے جس سے جیون دھارا بہتی ہے میں کیا جانوں کون ہے بادل کیوں آوارہ پھرتا ہے کتنے پیڑ ہرے ہوتے ہیں کتنی کلیاں مرجھاتی ہیں ایک نگاہ لطف سے اس کی ،اس کے ایک تغافل سے میں کیا جانوں شب کے گہرے سناٹوں میں کتنے تارے ٹوٹ گئے ہیں کتنی ...

مزید پڑھیے

نارسی سس

تصور کرو دن کے خوابوں کے برباد لمحوں کا جب سولی چڑھی اس کا سر آسماں پر تھا قدموں میں ساری زمیں ہاتھ پھیلے ہوئے منہ کھلا جیبھ باہر لٹکتی ہوئی مجھے کیا خبر تھی کہ یوں چاند تھک جائے گا تصور کرو اس گھڑی میں جہاں تھا وہاں میرا سایہ نہ تھا میں اسے ڈھونڈھتا سات رنگوں کے دریا کی جانب ...

مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے

مجھے یاد ہے تری گفتگو جو فضا میں تھی مجھے یاد ہے تری آرزو تری آرزو کے قریب ہی مری زندگی تھی کھڑی ہوئی مرے راستے میں ہر ایک سمت رکاوٹیں تھی اٹی ہوئی مجھے یاد ہے وہ انا بدست سوال بھی وہ خیال بھی کوئی حادثہ جو شریک ہو تو سفر کٹے کہ یہ دائرہ تو قفس ہے جس کا محیط مرگ دوام ہے مجھے زندگی ...

مزید پڑھیے

بے نشاں

بات یوں ختم ہوئی درد یوں گیا جیسے کہ ساحل ہی نہ تھا سارے الطاف و کرم بھول گئے جور فراموش ہوئے رات یوں بیت گئی جیسے کہ نکلا ہی نہ تھا مطلع شوق پہ وہ ماہ تمام اشک یوں سوکھ گئے جیسے کہ دامن میرا اس کا آنچل تھا وہ پیمانۂ ناز جانے گردش میں ہے کہ ٹوٹ گیا میں زمانے کے کنارے یوں کھڑا ہوں ...

مزید پڑھیے

سوال

وہ کیسا ترے جسم کا خواب تھا کہ جس کے لہو میں شرارے اچھلتے رہے کب جلے اور بجھے خواب ہے وہ ہوا جو انہیں چھو گئی سانس بن کر ابھی موجزن ہے رگ و پے میں لیکن شرارے کہاں ہیں لہو بے سبب گھومتا ہے غلامانہ گردش ہے کولھو میں جکڑے ہوئے بیل کی جس کی آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے ایک اندھا سفر ہے ازل تا ...

مزید پڑھیے

باز داشت

رائیگاں وقت کے سناٹے میں ایک آواز تھی پیلی آواز کوئی دھڑکن تھی گزشتہ دل کی گربۂ شب کی چمکتی آنکھیں تاک میں تھیں کہ کہیں سے نکلے موش بے خواب کوئی بند آسیب زدہ دروازے آپ ہی آپ کھلے بند ہوئے حجرۂ تار میں جیسے کوئی روح بھٹکی ہوئی در آئی تھی روح کب تھی وہ نری خواہش تھی آگ تھی آگ پینے کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 426 سے 960