شاعری

گزرا ہوا دن

کل کا گزرا ہوا دن پھر مرے گھر آیا ہے ناگہاں سینے کا ہر داغ ابھر آیا ہے گھومتی پھرتی ہے آوارہ چمیلی کی مہک چاند آنگن میں دبے پاؤں اتر آیا ہے کس کے ہونٹوں کے تبسم سے بکھرتے ہیں گلاب کون ہم راہ لیے باد سحر آیا ہے جھٹ پٹا چھا گیا بوسیدہ گھروں کے اوپر دور سے چل کے کوئی خاک بسر آیا ہے کس ...

مزید پڑھیے

روشنی کے مینار

دو سمندر جہاں آپس میں ملا کرتے ہیں میں نے کتنے سحر و شام گزارے ہیں وہاں میں نے دیکھی ہے نکلتے ہوئے سورج کی کرن اور کل ہوتے ہوئے دن کی شفق دیکھی ہے میں نے موجوں کے تلاطم میں گہر ڈھونڈے ہیں اور پائے ہیں خزف ریزے بھی جال پانی سے جب اک بار نکالا میں نے اک گھڑا ریت بھرا ہاتھ آیا ثبت تھی ...

مزید پڑھیے

بھوک

ایک گالی جو کیچڑ کے مانند چسپاں ہوئی ہونٹ جو کاسۂ مفلسی بن گئے ہاتھ جو گردنوں پر جھپٹنے لگے اور چاول کے جب چند دانے ملے انتڑیوں کا یہ آتش فشاں بجھ گیا پیٹ کی بھوک سچ مچ جہنم کا تنور ہے لیکن اس بھوک کا کیا مداوا کریں جو اصولوں کے اس قحط میں اپنے زخموں پہ خاموش ہے شارع عام پر چاٹتی ...

مزید پڑھیے

یاد

دیار غیر میں صبح وطن کی یاد آئی نسیم آبلہ پا کو چمن کی یاد آئی جراحتوں نے کیا اہتمام لالہ و گل بہار رفتہ کو سرو و سمن کی یاد آئی گزر رہے تھے شب و روز کنج عزلت میں کہ شمع بن کے تری انجمن کی یاد آئی بجھی ہوئی تھی بہت دن سے آرزوئے سخن یہ آج کس بت شیریں دہن کی یاد آئی

مزید پڑھیے

بلبلوں کے محل

قید ہیں جن میں شام و سحر جس نے رکھا قدم بن گیا سنگ در کون گزرا ہے اس راہ سے بے خطر اور ان سے پرے بادلوں میں گھرے کہساروں کے پھیلے ہوئے سلسلے فاصلے فاصلے ایک طائر کی پرواز بے جستجو ایک آواز بھٹکی ہوئی کو بہ کو

مزید پڑھیے

آہٹیں

گزر رہے ہیں مری زندگی کے شام و سحر گنوں گا بیٹھا ہوا دانہ دانہ ہر ساعت صدا لگاتی گدایانہ شام آئی تھی یہ کوئی در نہ کھلا نہ کچھ جواب ملا نڈھال، دبکی ہوئی سو رہی ہے کونے میں دھرا ہے کیا مری جھولی میں آہٹوں کے سوا یہی ہے زاد سفر یہی مری سوغات کسی کو دوں بھی تو کوئی بھلا نہ ہو اس کا جو ...

مزید پڑھیے

نگر نگر

ترا دھیان لیے میں نگر نگر گھوما شریک حال تھی تیری نظر کی پہنائی کہ آسمان و سمندر جگا دیے جس نے فضا میں ابر کے پیکر بنا دیے جس نے کبھی جو بیٹھ گیا میں شجر کے سائے میں تو میرے چہرے کو چھونے لگیں تری سانسیں ہزار باتیں تھیں پتوں کے سرسرانے میں ہزار لمس تھے جس وقت جھک گئیں شاخیں دم ...

مزید پڑھیے

نقلی پھول

میں نے جب پہلے پہل دیکھا تھا یہ مجھے کتنے بھلے لگتے تھے تم نے گلدان میں رکھا تھا انہیں تھی مرے کمرے کی زینت ان سے اور اب تھک گئیں آنکھیں میری دیکھتے دیکھتے صورت ان کی یہ مہکتے ہیں، نہ کمھلاتے ہیں دن انہیں چھو کے نکل جاتے ہیں کاش موسم کی عمل داری میں یہ بھی پابند تغیر ہوتے جب یہ ...

مزید پڑھیے

تم اپنے خواب گھر پر چھوڑ آؤ

تم اپنے خواب گھر پر چھوڑ آؤ نہیں تو خار بن کر یہ چبھیں گے تمہاری روح کو پیہم ڈسیں گے مبادا یہ تمہارا منہ چڑائیں تم ان سب آئنوں کو توڑ آؤ تم اپنی عقل و منطق پر ہو نازاں یہ ناخن اس جگہ کیا کام دیں گے جہاں دل کی گرہ الجھی ہوئی ہو تمہارے ہاتھ اپنی بے بسی پر تمہیں ہر گام پر الزام دیں ...

مزید پڑھیے

میں تمہارے لیے ٹھہروں گا

میں تمہارے لیے ٹھہروں گا کہ شاید آؤ اور جب دونوں پہر ملتے ہوں ہم بھی آپس میں ملیں جیسے اک روز ملا کرتے تھے دن کے ہنگامے بجھے جاتے ہیں سرد ہونے لگی ڈھلتی ہوئی شام کشتیاں آ کے کنارے سے لگیں جھیل لیٹی ہوئی محو آرام پیڑ دن بھر کی تھکن سے بوجھل قرب سرما کی ہوا سست خرام دل مرا بارہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 409 سے 960