گزرا ہوا دن
کل کا گزرا ہوا دن پھر مرے گھر آیا ہے ناگہاں سینے کا ہر داغ ابھر آیا ہے گھومتی پھرتی ہے آوارہ چمیلی کی مہک چاند آنگن میں دبے پاؤں اتر آیا ہے کس کے ہونٹوں کے تبسم سے بکھرتے ہیں گلاب کون ہم راہ لیے باد سحر آیا ہے جھٹ پٹا چھا گیا بوسیدہ گھروں کے اوپر دور سے چل کے کوئی خاک بسر آیا ہے کس ...