شاعری

خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

اپنی پندار کی کرچیاں چن سکوں گی شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے ...

مزید پڑھیے

سلام

گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کی لیکن میرے حسین نے حجت تمام کی زینب کی بے ردائی نے سر میرا ڈھک دیا آغاز صبح نو ہوئی وہ شام شام کی اک خواب خاص چشم محمد میں تھا چھپا تعبیر نور عین محمد نے عام کی بچوں کی پیاس مالک کوثر پہ شاق تھی ساقی کو ورنہ مے کی ضرورت نہ جام کی حر سا نصیب ...

مزید پڑھیے

کنگن بیلے کا

اس نے میرے ہاتھ میں باندھا اجلا کنگن بیلے کا پہلے پیار سے تھامی کلائی بعد اس کے ہولے ہولے پہنایا گہنا پھولوں کا پھر جھک کر ہاتھ کو چوم لیا پھول تو آخر پھول ہی تھے مرجھا ہی گئے لیکن میری راتیں ان کی خوشبو سے اب تک روشن ہیں بانہوں پر وہ لمس ابھی تک تازہ ہے شاخ صنوبر پر اک چاند دمکتا ...

مزید پڑھیے

ایکسٹیسی

سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں ملبوس پر آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا گرمئ رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا نرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ سرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس ریشمیں بانہوں میں ...

مزید پڑھیے

چاند رات

گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا فضا میں کیٹسؔ کے لہجے کی نرماہٹ تھی موسم اپنے رنگ میں فیضؔ کا مصرعہ تھا دعا کے بے آواز الوہی لمحوں میں وہ لمحہ بھی کتنا دل کش لمحہ تھا ہاتھ اٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے مجھ کو اپنے رب سے مانگا تھا پھر ...

مزید پڑھیے

بلاوا

میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں میرا نام شریک ہوا ہے تیرے ہونٹوں کی جنبش پر میرے اندر کی داسی کے اجلے تن میں گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں!

مزید پڑھیے

جدائی کی پہلی رات

آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں کسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہے سرد پڑتی ہوئی رات مانگنے آئی ہے پھر مجھ سے ترے نرم بدن کی گرمی اور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہوا کھوجتی ہے مرے غم خانے میں تیری سانسوں کی گلابی خوشبو! میرا بستر ہی ...

مزید پڑھیے

فروغ فرخ زاد کے لیے ایک نظم

مصاحب شاہ سے کہو کہ فقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیں کہ فصل پھر سے گناہ گاروں کی پک گئی ہے حضور کی جنبش نظر کے تمام جلاد منتظر ہیں کہ کون سی حد جناب جاری کریں تو تعمیل بندگی ہو کہاں پہ سر اور کہاں پہ دستار اتارنا احسن العمل ہے کہاں پہ ہاتھوں کہاں زبانوں کو قطع کیجئے کہاں پہ ...

مزید پڑھیے

مشورہ

ننھی لڑکی ساحل کے اتنے نزدیک ریت سے اپنے گھر نہ بنا کوئی سرکش موج ادھر آئی تو تیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گی اور پھر ان کی یاد میں تو ساری عمر اداس رہے گی!

مزید پڑھیے

زود پشیمان

گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہ دور دیس سے چمکیلے مشکی گھوڑے پر ہوا سے باتیں کرتا جگر جگر کرتی تلوار سے جنگل کاٹتا آیا دروازوں سے لپٹی بیلیں پرے ہٹاتا جنگل کی بانہوں میں جکڑے محل کے ہاتھ چھڑاتا جب اندر آیا تو دیکھا شہزادی کے جسم کی ساری سوئیاں زنگ آلودہ تھیں رستہ دیکھنے والی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 328 سے 960