شاعری

داغ

فسانۂ غم دل اب نہیں سنے جاتے شب فراق میں تارے نہیں گنے جاتے دل و جگر میں ہے اک درد کہکشاں کی طرح غلط جگہ کبھی افشاں نہیں چنے جاتے لگی ہے چوٹ مسلسل کچھ اس طرح دل میں کہ ہم سے داغ جگر بھی نہیں گنے جاتے اثر ہو جس کا وہی شعر شعر ہے ناشادؔ ہر ایک شعر پہ سر بھی نہیں دھنے جاتے

مزید پڑھیے

روداد خزاں

کیوں ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہے پہلے تو نہ تھا ایسا عالم اب دل کیوں ڈوبا جاتا ہے چاہت سے کسی کی سیکھا تھا غم سہنا اور آنسو پینا لیکن اب تو ہر اشک الم آنکھوں سے ٹپک ہی جاتا ہے آداب محبت کی خاطر راحت غم کو سمجھے ہیں تو پھر کیوں دل سے آہ نکلتی ہے کیوں چکر سا آ ...

مزید پڑھیے

ذوق شاعرانہ

میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہ مری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہ مرے حال پر کرم کر کبھی دوست غائبانہ وہ سکون بخش دل کو کہ تڑپ اٹھے زمانہ ہے طواف اب بھی جاری ترے آستاں کا لیکن نہیں مل سکا جبیں کو ترا سنگ آستانہ تری بارگاہ تک ہو مری کس طرح رسائی مجھے دی گئی گدائی تجھے تخت ...

مزید پڑھیے

مسافر شب

سکوت شب کی ہے جلوہ فروشی ہے موجودات پر چھائی خموشی فضائے شام کو نیند آ رہی ہے مناظر پر سیاہی چھا رہی ہے ہے بدلا رنگ دن کے شور و شر کا ہوا تاریکیوں کا دور دورا رکا ہنگامہ ہائے دن کا محشر بڑھا شب کا سکوں بر دوش منظر ہے آخر روز روشن کی کہانی ہوئی تاریک برد آسمانی گیا راحت کدے میں مہر ...

مزید پڑھیے

ہمدم

زندگی بوجھ سہی بوجھ کا احساس نہ کر منزلیں دور سہی اس کا تردد بیکار جب قدم عزم سے اٹھیں گے تو رستہ طے ہے اور پھر راہ میں کانٹوں کے سوا نرمیٔ گل بھی تو موجود ہے سبزہ بھی ہے چلتے چلتے یوں ہی عادت بھی ہوئی جاتی ہے تھک گئے ہوں تو یہاں چھاؤں بھی سایہ بھی ہے گرمیٔ مہر ستاتی ہے مگر یوں بھی ...

مزید پڑھیے

انفرادیت

اوروں سے الگ دنیا سے جدا یکتائے زمانہ ہوں گویا آپ اپنی خودی کا مظہر ہوں نقاش ازل کا شہ پارہ جس سوچ میں ڈوبی رہتی ہوں سب لوگ اسے کیا جانیں غم اور خوشی کا پیمانہ اوروں سے ہے یکسر بیگانہ کچھ رنگ مرے محبوب نظر کچھ شعر مرے تسکین جگر کچھ راگ ہیں ایسے جو روح کے بربط پر بجتے ہیں خوابوں ...

مزید پڑھیے

اس بات کا دیکھو دھیان رہے

تم اکثر کہتے رہتے ہو پھولوں کا کیا ہے کچھ دیر میں مرجھا جاتے ہیں اور یہ راتیں چاندی سی دو دن کی کہانی ہے ان کی لمحوں میں بکھر کر رہ جاتی ہے موتی کی طرح شبنم کی لڑی میں اکثر سوچا کرتی ہوں کیا موسم گل ہی سب کچھ ہے اور خواب بہاراں کچھ بھی نہیں بلور سے ترشی مورت سے الگ کیا عکس نگاراں ...

مزید پڑھیے

انتظار

وہ لحن جو صدیوں صدیوں تک انسان کے دل کی دھڑکن تھا اس لحن کا جادو ٹوٹ گیا فردوس کے نغمے خواب الست عقبیٰ کی کہانی نقش کہن کہسار پہ بادل سرگرداں افلاک کے قیدی شمس و قمر تاریخ نوائے پارینہ مذہب کی روایت فرسودہ اخلاق کی قدریں چکنا چور تہذیب کے مندر بوسیدہ فطرت کا سہارا کیا ...

مزید پڑھیے

آخر شب کے مہمان

پھر رات کی لانبی پلکوں پر تخیل کے موتی ڈھلتے ہیں پھر وقت کا افسوں جاگا ہے خوشیوں کے خزانے لٹتے ہیں اور دل کے ضیافت خانے کے ہر گوشے میں شمعیں جلتی ہیں پھولوں سے سجی ہیں محرابیں خوشیوں کی دہکتی منقل سے تنویر کے ہالے بنتے ہیں خوابیدہ دریچے کھلتے ہیں دروازوں کے پردے ہلتے ...

مزید پڑھیے

چھوٹی سی برقعہ والی

وہ دیکھو جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی برقع لٹک رہا ہے دامن گھسٹ رہا ہے نیچے کا سارا حصہ مٹی میں اٹ رہا ہے یہ ڈھیلا ڈھالا برقع دب دب کے پھٹ رہا ہے ہر مرتبہ ہوا سے مقنع الٹ رہا ہے پر ڈالے جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی صورت سے سن میں بیگم سات آٹھ سال ہوں گی پردہ کی پر یہ بولو دل میں نہال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 302 سے 960