خواب مزدور ہے
خواب مزدور ہے رات دن سر پہ بھاری تغاری لیے سانس کی بانس کی ہانپتی کانپتی سیڑھیوں پر اترتا ہے چڑھتا ہے روپوش معمار کے حکم پر ایک لا شکل نقشے پہ اٹھتی ہوئی اوپر اٹھتی ہوئی گول دیوار کے خشت در خشت چکر میں محصور ہے خواب مزدور ہے! اک مشقت زدہ آدمی کی طرح میں حقیقت کی دنیا میں یا خواب ...