شاعری

خواب مزدور ہے

خواب مزدور ہے رات دن سر پہ بھاری تغاری لیے سانس کی بانس کی ہانپتی کانپتی سیڑھیوں پر اترتا ہے چڑھتا ہے روپوش معمار کے حکم پر ایک لا شکل نقشے پہ اٹھتی ہوئی اوپر اٹھتی ہوئی گول دیوار کے خشت در خشت چکر میں محصور ہے خواب مزدور ہے! اک مشقت زدہ آدمی کی طرح میں حقیقت کی دنیا میں یا خواب ...

مزید پڑھیے

مراتبِ وجود بھی عجیب ہیں

اچانک اک شبیہ بے صدا سی جست بھر کے آئنے کے پاس سے گزر گئی سیاہ زرد دھاریاں کہ جیسے لہر ایک لہر سے جڑی ہوئی سنگار میز ایک دم لرز اٹھی کلاک کا طلائی عکس بھی دہل گیا بدن جو تھا بخار کے حصار میں پگھل گیا مراتب وجود بھی عجیب ہیں لہو کی کونیات میں صفات اور ذات میں عجب طرح کے بھید ...

مزید پڑھیے

وہ عرصہ جو دوری میں گزرا

میں کیسے بتاؤں وہ عرصہ جو دوری میں گزرا حضوری میں گزرا میں اس کی وضاحت نہیں کر سکوں گا سر شام ہی کوئی لا شکل کوت مجھے اپنے نرغے میں رکھتی مزا لیتی میرے نمک کا کبھی میری شیرینی چکھتی کبھی مجھ کو قطرے کبھی مجھ کو ذرے میں تبدیل کرتی کبھی مجھ کو ہیئت میں لاتی کبھی میری ہیئت کو تحلیل ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی گھڑی ہے

یہ کند اور یخ بے نمو نیند جس میں شب ارتقا اور صبح حریرا کا تازہ عمل رائیگاں ہو رہا ہے شکستہ کناروں کے اندر مچلتی ہوئی سوختہ جان لہروں کا رقص زیاں ہو رہا ہے چراغ تحرک کف سست پر بے نشاں ہو رہا ہے مرے دہر کا طاق تہذیب جس پر مقدس صحیفہ نہیں اک ریاکار مشعل دھری ہے ہر اک شیشۂ پاک باز و ...

مزید پڑھیے

ایک زنجیرِ گریہ مرے ساتھ تھی

میں گیا اس طرف جس طرف نیند تھی جس طرف رات تھی بند مجھ پر ہوئے سارے در سارے گھر میں گیا اس طرف جس طرف تیر تھے جس طرف گھات تھی مجھ پہ مرکوز تھی اک نگاہ سیہ اور عجب زاویے سے بنائے ہوئے تھی مجھے سر سے پا تک ہدف میں گیا اس طرف جس طرف ریت کی لہر تھی موج ذرات تھی میں نہیں جانتا اس گھڑی تیرگی ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی گھڑی ہے

یہ کیسی گھڑی ہے زمانی تسلسل کا پہیہ گھما کر یہاں وقت کو جیسے فطرت سے کاٹا گیا ہے خلیجیں جو رکھی گئیں نور و ظلمت کے مابین ان سب کو پاٹا گیا ہے سمے رات کا ہے مگر دھوپ سورج سے لے کر اجازت ہمارے سرہانے کھڑی ہے یہ کیسی گھڑی ہے یہ کیسی گھڑی ہے کہ جیسے ہمارے سرہانے کا بالکل ہماری ہی ...

مزید پڑھیے

غار میں بیٹھا شخص

چاند ستارے پھول بنفشی پتے ٹہنی ٹہنی جگنو بن کر اڑنے والی برف لکڑی کے شفاف ورق پر مور کے پر کی نوک سے لکھے کالے کالے حرف اجلی دھوپ میں ریت کے روشن ذرے اور پہاڑی درے ابر سوار سہانی شام اور سبز قبا میں ایک پری کا جسم سرخ لبوں کی شاخ سے جھڑتے پھولوں جیسے اسم رنگ برنگ طلسم جھیل کی تہہ ...

مزید پڑھیے

مہرباں فرش پر

اک معلق خلا میں کہیں ناگہاں مہرباں فرش پر پاؤں میرا پڑا میں نے دیکھا کھلا ہے مرے سامنے زر نگار و منقش بہت ہی بڑا ایک در خواب کا مہرباں فرش کے مرمریں پتھروں سے ہویدا ہوا عکس مہتاب کا میں نے ہاتھ اپنے آگے بڑھائے اور اس کو چھوا گھنٹیاں میرے کانوں میں بجنے لگیں جاوداں اور غنائی رفاقت ...

مزید پڑھیے

عجیب ما فوق سلسلہ تھا

عجیب ما فوق سلسلہ تھا شجر جڑوں کے بغیر ہی اگ رہے تھے خیمے بغیر چوبوں کے اور طنابوں کے آسرے کے زمیں پہ استادہ ہو رہے تھے چراغ لو کے بغیر ہی جل رہے تھے کوزے بغیر مٹی کے چاک پر ڈھل رہے تھے دریا بغیر پانی کے بہہ رہے تھے سبھی دعائیں گرفتہ پا تھیں رکی ہوئی چیزیں قافلہ تھیں پہاڑ بارش کے ...

مزید پڑھیے

وہی مخدوش حالت

ہمیشہ سے وہی مخدوش حالت ایک آدھی مینگنی دم سے لگی ہے ناک میں بلغم بھرا ہے ہڈیاں ابھری ہوئی ہیں پشت کی دو روز پہلے ہی منڈی ہے اون میری سردیوں کے دن ہیں چٹیل بے نمو میدان میں ریوڑ کے اندر سر جھکائے گھاس کی امید میں مدھم شکستہ چال چلتا خشک ڈنٹھل اور پولیتھین کے مردہ لفافوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 298 سے 960