شاعری

بلندی کی پیمائش

جتنے اونچے ہیں اتنے ہی خاموش ہیں کن پہاڑوں میں رہنا پڑا ہے مجھے سارے اپنی بڑائی کی دھن میں مگن دیکھتے جا رہے ہیں مگر بات کرتے نہیں بات کرتے ہیں تو خود سے آگے کوئی لفظ کہتے نہیں! اپنے ہی بوجھ سے میری خاموشی کوزہ کمر ہو گئی۔۔۔ تو چلی اک بڑی خامشی کی طرف اور مری ننھی سی خامشی نے ...

مزید پڑھیے

یادوں کی زنجیریں

اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ایک زمانہ بیت گیا اب میں اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں کے انبار پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں میرا ان سے کیا رشتہ ہے ان کا آپس میں کیا رشتہ ہے کون ہوں میں اور کس تلوار سے میں نے اپنے جسم کے ٹکڑے کاٹے ہیں اب میں کیا ہوں اور اب مجھ کو کیا کرنا ہے میں نے کیا تعمیر کیا تھا چھوٹی ...

مزید پڑھیے

اگر مجھے یہ گمان بھی ہو

اگر مجھے یہ گمان بھی ہو کہ خواب میں میں نہ دیکھ پاؤں گا تیرا چہرہ گداز بانہیں اداس آنکھیں مرے لبوں کو تلاش کرتے ہوئے ترے لب قسم ہے مجھ کو گزرتی ندی کے پانیوں کی میں اپنی نیندیں جلا کے رکھ دوں اگر مجھے یہ یقین بھی ہو کہ سبز پتے ہوا کی آہٹ نہ سن سکیں گے گلاب موسم برستی بارش نہ سہہ سکے ...

مزید پڑھیے

تنہائی کے بعد

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروش اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس تو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس تیرے چہرے پہ سکوں کھیل رہا ہے لیکن تیرے ...

مزید پڑھیے

سوتا جاگتا سایہ

تو چلی جا کہ مجھے تیری ضرورت بھی نہیں میں شب و روز کی مٹی سے دوبارہ بھی جنم لے لوں گا میں جو زندوں میں ہوں زندوں میں نہیں میں پرندوں میں درندوں میں نہیں فقط انسانوں میں موجود ہے سایہ میرا مدتیں بیت گئی ہیں مگر انجام نہ آیا میرا میں سپاہی تو نہیں پھر بھی لڑی ہیں کئی جنگیں میں ...

مزید پڑھیے

کرسمس کا درخت

میں بھی ہوں گویا کرسمس کا درخت میرا رشتہ بھی زمیں سے آسماں سے اور ہوا سے کٹ چکا باغ چھوٹا کھیتیاں چھوٹیں میں گھر کے مرکزی کمرے میں آ کر ڈٹ چکا میرے بچوں نے سجایا ہے مجھے روشنی کے ننھے ننھے بلب ٹانکے ہیں مری بانہوں کے ساتھ میری شاخوں میں ہیں تحفے مختلف رنگوں کے کاغذ اور سنہرے ٹیپ ...

مزید پڑھیے

درختوں پر کوئی پتا نہیں تھا

درختوں پر کوئی پتا نہیں تھا گزرتے راستے خاموش تھے اڑتے پرندے رات کا آسیب لگتے تھے جہاں تک بھی نظر جاتی تھی ان لوگوں کی قبریں تھیں جو پیدا ہی نہ ہو پائے ستارے تھے مگر وہ آسمانوں پر ہویدا ہی نہ ہو پائے خبر یہ تھی اس مٹی میں سبزہ لہلہائے گا یہاں وہ وقت آئے گا کہ ہر سو رنگ ہوں گے پھول ...

مزید پڑھیے

ہم کہ انسان نہیں آنکھیں ہیں

کیا فقط دیکھتے رہنے سے مسائل کی گرہ کھلتی ہے کیا فقط آنکھ کی پتلی میں ہے محفوظ خدائی ساری ہم کہ انسان نہیں آنکھیں ہیں ہم نے آنکھوں کو خدا سمجھا خدائی جانا آئنہ دیکھا تو ان آنکھوں نے خود کو بھی نہیں پہچانا دیکھتے دیکھتے پتھرا گئیں دونوں آنکھیں پھر بھی چہرہ نہ نظر آیا کہیں پھر ...

مزید پڑھیے

زہریلی تخلیق

ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کی چوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہ آگے خلا اور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمود آسماں کے پاؤں پر مہتاب و انجم کے سجود اور زمیں کی رونقوں کا وہم فکر رفت و بود بن دیے کس نے یہ تار و پود کس کے ہاتھ میں آیا نظام کائنات کس کے ذرے بن گئے ...

مزید پڑھیے

گامزن

کبھی ریتیلے خشک میدان میں کوئی بادل کا آوارہ ٹکڑا کسی گھر سے بھاگے ہوئے پیارے بچے کی مانند آوارگی کرتا کرتا زمانوں سے سوکھی ہوئی ریت کو پیار سے دیکھتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس ریت کے خشک سینے میں دل ہے جو اپنی تباہی پہ روتا نہیں ہے جو کہتا نہیں ہے کہ ''آؤ مجھے اس گڑھے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 155 سے 960