شاعری

سنگاپور

سات سمندر پار گئے ہیں نانا جان دیووں پریوں کا ایک دیس ہے سنگاپور سنگاپور سے جب آئیں گے شیشے کی گولی لائیں گے نئے نئے کپڑے لائیں گے گیند بھی اک خربوزے والی جس میں لال ہرے پیلے سب رنگ رہیں گے لیکن جب میں سوچتا ہوں تو ڈر لگتا ہے دیو کہیں نانا سے میرے ساری چیزیں چھین نہ لیں چھینیں گے ...

مزید پڑھیے

تم آؤ گے

میرے گھر کی دیواریں اب مجھ کو چاٹ رہی ہیں سارے شہر کی مٹی میں جو میرا حصہ تھا وہ بھی لوگوں میں تقسیم ہوا ہے اپنی اس کی قبر پر میری آنکھیں اڑتی دھول کی خوشبو تھامے لٹک کر لیٹ گئی ہیں ایسے سمے اب کون آتا ہے ٹیڑھی ترچھی انگلیوں میں سارے وفا کے دھاگے ہلکے ہلکے ٹوٹ رہے ہیں ہڈیوں کے جلنے ...

مزید پڑھیے

تم مجھے نہیں پاؤ گے

تم سب لوگ مجھے قطرہ قطرہ دریا میں بہا دو میرے وجود کو تار تار کرکے دیکھو پھر بھی تمہیں میری روح تک پہنچنے کے لیے اپنی کمیں گاہوں کے رستے سے گزرنا ہوگا تم مجھے نہیں پاؤ گے اس لیے کہ میں تم میں سے نہیں ہوں مجھے تمہارے گھر صرف ایک آبزرور کی حیثیت سے رکھا گیا ہے تاکہ تمہاری منافقتوں ...

مزید پڑھیے

دوسرے درجے کی پچھلی قطار کا آدمی

گوشت مچھلی سبزیاں بنیے کا راشن دودھ گھی مجھ کو کھاتی ہیں یہ چیزیں میں نے کب کھایا انہیں میرا گھر رہتا ہے مجھ میں گھر میں میں رہتا نہیں بیوی بچوں کے پھٹے کپڑوں میں ہوں اور نئے جوڑوں کی خوشیوں میں چھپا جو کرب ہے وہ بھی ہوں میں فیس میں اسکول کی کاپی کتابوں میں بھی میں میں ہی ہوں ...

مزید پڑھیے

کچے رنگوں کا موسم

گھر سے بستہ اور ٹفن کے ساتھ نکلنا مکتب کو آدھے ہی رستے سے گھوم کے واپس آنا شام ڈھلے تک کھیلنا کودنا جھگڑے کرنا پھر مل جانا باغ سے جا کر آم چرانا پکڑے جانا گھر پر آ کر ڈانٹیں سننا کبھی کبھی تھپڑ بھی کھانا گنے کے مرجھائے اور کالے پھولوں سے نقلی داڑھی مونچھ بنانا چھپ کر جوٹھی بیڑی ...

مزید پڑھیے

ماں کے انتقال پر

اللہ جی ہم سو نہیں پاتے امی کو کب بھیجو گے نانی کہتی ہیں تم ہم سے روٹھے ہو لیکن اب ہم روزانہ مکتب جائیں گے تم کو تختی پر لکھیں گے اسلم مسٹر گندے ہیں ان کے ساتھ نہیں کھلیں گے اللہ جی اب مان بھی جاؤ چاہو تو امی کے بدلے ہم سے ساری چیزیں لے لو گیند بھی لے لو اور گولی بھی لٹو اور غلیل بھی ...

مزید پڑھیے

جھوٹی محبت

تمہارا میں ہوں مرے تم ہو اچھے جملے ہیں مگر یہ بات بہت دور ہے صداقت سے کہیں سے تم ہو ادھورے کہیں سے خالی میں تم اپنے طور مجھے استعمال کرتے ہو میں اپنے طور تمہیں استعمال کرتا ہوں یہ زندگی ہے یہاں گھات میں ہے ہر کوئی سب اپنی اپنی ضرورت میں چھپ کے بیٹھے ہیں کہیں نہیں ہے محبت فریب ہے سب ...

مزید پڑھیے

رشتہ

تجھے بھی یاد آتا ہوگا شاید تھا میری روح سے اک دل کا رشتہ وہ رشتہ جس کے آگے سارے رشتے لگا کرتے ہیں جھوٹے اور پھیکے وہی رشتہ ہے میرے ساتھ اب تک مری رگ رگ میں ہر دم دوڑتا ہے مرے اندر جو خالی پن ہے چھایا اسے پر کرنے کی کوشش میں ہر پل مری خاموشیوں کو تولتا ہے مری آسودگیٔ جاں کی ...

مزید پڑھیے

سرخ گلابوں کے موسم میں

بہت بے رنگ سے دن ہیں ترے گلنار گالوں کے گلابی پھول کھلتے ہیں نہ تیرے پھول ہونٹوں سے ملن کی شوخ باتوں کے سنہری رنگ میں لپٹی کوئی تتلی ہی اڑتی ہے نہ دن کے زرد کاغذ پر تری تصویر بنتی ہے نہ شب کی کالی چادر پر تری آنکھیں چمکتی ہیں نہ تیری مسکراہٹ کی کرن ملنے کو آتی ہے رگوں کے سرد غاروں ...

مزید پڑھیے

کفن چور

کچھ نہیں، گھر میں مرے کچھ بھی نہیں کوئی کپڑا کہ حرارت کو بدن میں رکھتا لقمۂ نان جویں، خون کو دھکا دیتا من کو گرماتا سکوں، تن سے لپٹتا بستر کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں! رات کو جسم سے چپکاتی ہوئی سرد ہوا جسم کے بند مساموں میں اترتی ٹھنڈک سنگ مرمر سی ہوئیں خون ترستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 154 سے 960