شاعری

کمزوری

نسیم خلد بے خوفی سے میرے گھر میں در آئی کہا میں نے کہ تم کب شعلۂ جوالہ بن جاؤ گی خاشاک دل و جاں کو جلا کر خاک کرنا ہے بدن پر تھرتھری طاری ہے دیواریں لرزتی ہیں وہ ٹھنڈک ہے کہ بالوں کی جڑوں میں خون جمتا جا رہا ہے ہر کڑی چھت کی سکڑ کر چشم افیوں نوش کے مانند چھوٹی ہوتی جاتی ہے وہ دیکھوں ...

مزید پڑھیے

شور تھمنے کے بعد

اب شور تھما تو میں نے جانا آدھی کے قریب رو چکی ہے شب گرد کو اشک دھو چکی ہے چادر کالی خلا کی مجھ پر بھاری ہے مثل موت شہپر ہے سانس کو رکنے کا بہانہ تسبیح سے ٹوٹتا ہے دانہ میں نقطہ حقیر آسمانی بے فصل ہے بے زماں ہے تو بھی کہتی ہے یہ فلسفہ طرازی لیکن یہ سنسناتی وسعت اتنی بے حرف و بے ...

مزید پڑھیے

شیشۂ ساعت کا غبار

میں زندہ تھا مگر میں تیرے سرخ نیلگوں سفید بلبلے میں قید تھا ہوا وسیع تھی مگر حدود سے رہا نہ تھی نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم مگر مری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے آخری خطوط سے سوا نہ تھی میں حال کے اتھاہ پانیوں میں غرق یا گذشتہ وقت کے ...

مزید پڑھیے

آخری تماشائی

اٹھو کہ وقت ختم ہو گیا تماش بینوں میں تم آخری ہی رہ گئے ہو اب چلو یہاں سے آسمان تک تمام شہر چادریں لپیٹ لی گئیں زمین سنگ ریزہ سخت دانت سی سفید ملگجی دکھائی دے رہی ہے ہر طرف تمہیں جہاں گمان سبزہ تھا وہ جھلک رہی ہے کہنہ کاغذوں کی برف وہ جو چلے گئے انہیں تو اختتامیے کے سب سیاہ ...

مزید پڑھیے

بیت عنکبوت

یہ عورت اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھانسی پر چڑھایا جائے اسے یونان کے اک مشہور ڈاکو کے بستر کی ضرورت ہے (وہ اپنے سب شکاروں کا قد و قامت اسی بستر کے پیمانے کی نسبت سے گھٹاتا کاٹتا یا کھینچ کا جبراً بڑھاتا تھا) خطوط لب تو دیکھو! کس طرح سمٹے ہوئے ہیں، سنگ دل عامیانہ ...

مزید پڑھیے

کوئی بات نہیں

دانت بڑے ہوں تو بھی کوئی بات نہیں کان کھڑے ہوں تو بھی کوئی بات نہیں ڈانٹ پڑی ہو تو بھی کوئی بات نہیں دھوپ کڑی ہو تو بھی کوئی بات نہیں ادھم بڑا ہو تو بھی کوئی بات نہیں کوئی لڑا ہو تو بھی کوئی بات نہیں بچوں کا گھر میں آنے دو دھومیں ان کو مچانے دو

مزید پڑھیے

نصیحت

باپ نے بیٹے کو بلوا کر یہ پوچھا کیا ہوا امتحاں کا آج ہی تو تھا نتیجہ کیا ہوا یہ کہا بیٹے نے فوراً اپنا سینہ تان کر آپ خوش ہوں گے یقیناً یہ حقیقت جان کر کم ہی کرتے ہیں کیا جو آپ کی اولاد نے سامنے سب کے کہا مجھ سے مرے استاد نے ہم تمہیں جانے نہ دیں گے اس جماعت سے ابھی تم ہی رونق ہو یہاں ...

مزید پڑھیے

دل کی دل ہی میں رہی

لے کے وہ آئی ہوئی تھیں اپنے شوہر سے طلاق چاہتی تھیں اہلیہ کو میں بھی دوں داغ فراق ساتھ اپنے لائی تھیں وہ چھ عدد بچوں کو بھی اور کہتی تھیں کہ کر دو اپنے چھ بچوں کو عاق کوٹھیاں کاریں کئی اور بینک بیلنس بے حساب شہر میں تھا ہر جگہ مشہور ان کا طمطراق سر کڑاہی میں ہو جیسے گھی میں پانچوں ...

مزید پڑھیے

ہمارے بھی ہیں مہرباں

ان کو ہم اپنا دوست لکھیں آشنا لکھیں ہمدم لکھیں رفیق لکھیں ہم نوا لکھیں شعر و ادب سے ان کو تعلق ہے کس قدر طاقت کہاں قلم میں کہ یہ ماجرا لکھیں لکھنے میں کچھ نہ کچھ ہیں وہ مصروف رات دن کاغذ قلم دوات میں ان کو فنا لکھیں نقد و نظر میں ہے وہ مہارت کے ہم انہیں اقلیم نظم و نثر کا فرماں روا ...

مزید پڑھیے

دادی اماں کا نعمت خانہ

دادی کا تھا دولت خانہ گھر کیا تھا اک جنت خانہ بچپن میرا گزرا اس میں بے شک تھا وہ شفقت خانہ باورچی خانے میں اس کے لکڑی کا تھا نعمت خانہ خانے اس میں اتنے سارے سمجھو جیسے حیرت خانہ کھانے پینے کی چیزوں کا لگتا تھا وہ برکت خانہ شیرینی بھی نمکینی بھی ہر خانہ تھا لذت خانہ دودھ اس میں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 139 سے 960