کمزوری
نسیم خلد بے خوفی سے میرے گھر میں در آئی کہا میں نے کہ تم کب شعلۂ جوالہ بن جاؤ گی خاشاک دل و جاں کو جلا کر خاک کرنا ہے بدن پر تھرتھری طاری ہے دیواریں لرزتی ہیں وہ ٹھنڈک ہے کہ بالوں کی جڑوں میں خون جمتا جا رہا ہے ہر کڑی چھت کی سکڑ کر چشم افیوں نوش کے مانند چھوٹی ہوتی جاتی ہے وہ دیکھوں ...