شاعری

خدا قہقہہ لگاتا ہے

غزوۂ خندق کا سفر زبان کی خندق تک آ پہنچا لیکن سازشیں ہتھیائی نہیں جا سکیں ابلیس کی معیت میں نماز حاجات ادا کرنے والے ہتھیلیوں میں جنت بھر کے کہتے ہیں خدایا یہ دودھ اور شہد کی نہریں کس کے لئے بچا رکھی ہیں تیری زمین پہ تو اب کچرے کے ڈھیر سے رزق نہیں انسانی کھلونے ملتے ہیں ظالموں ...

مزید پڑھیے

خودکشی کرنے کا اگلا منصوبہ

طے ہوئی تھی ایک ملاقات ریلوے ٹریک پر لیکن ریل گاڑی کا انجن مسلسل کھانستا رہا پلیٹ فارم نمبر آخری پر اور پھنس گئے مسافر ایک دوسرے کی گالیوں میں سو یک طرفہ رہی ملاقات کھڑکی سے باہر پکار رہا تھا آسمان مگر چٹخنی اور فریم نے جکڑ لیا ایک دوسرے کا ہاتھ اور حبس بڑھتا گیا لوگوں کی آمد و ...

مزید پڑھیے

تعلق کی ناجائز تجاوزات

بہت غور و خوض کے بعد بالآخر تلاش ختم کر دی گئی اس مکان کی چوبی سیڑھیوں کے نصف دائرے پر جو ہماری سمت کا آخری حصہ بتایا گیا ہے اور قلعی کر دی گئی ان تمام دیوار گیر اندازوں پر جو ہمیں توڑ مروڑ کر لکھتے تھے الگ کئے ہوئے پاؤں جو کسی اجنبی راستے کا حصہ نہیں بنے چمڑے کے جوتوں میں سینت کر ...

مزید پڑھیے

چناؤ

چار برس کے میلے کچلے دبلے پتلے لڑکے میں تھی غضب کی پھرتی چوراہے پر ایک طرف کی ہری لائٹ سے دوسری سمت کی لال لائٹ تک بجلی کی تیزی سے وہ آتا جاتا تھا جو مل جائے اس کے آگے پھیلاتا تھا اپنی ہتھیلی جس میں خوشحالی اور لمبے جیون کی ریکھائیں تھیں چوراہے تک ہی محدود تھی اس کی دنیا جس کو اس ...

مزید پڑھیے

کب کرو گے ہمارا استقبال

وقت کا ایسا یہ جزیرہ ہے جہاں دن اور رات کچھ بھی نہیں ذہن و دل اب ہیں ایسے عالم میں ہوش و بے ہوشی میں نہیں کچھ فرق اجنبیت ہے ایک خلا ہے یہ یہاں خود کا پتا نہیں ملتا پھر بھی کچھ تو سنائی دیتا ہے چند آوازیں اور ایک دستک ہر صدا کا کچھ ایسا لہجہ ہے جیسے دہشت ہو درد ہو موجود جیسے عصمت کو ...

مزید پڑھیے

واہمہ

رات جاگی تو کہیں صحن میں سوکھے پتے چرمرائے کہ کوئی آیا کوئی آیا ہے اور ہم شوق کے مارے ہوئے دوڑے آئے گو کہ معلوم ہے تو ہے نہ ترا سایہ ہے ہم کہ دیکھیں کبھی دالان کبھی سوکھا چمن اس پہ دھیمی سی تمنا کہ پکارے جائیں پھر سے اک بار تری خواب سی آنکھیں دیکھیں پھر ترے ہجر کے ہاتھوں ہی بھلے ...

مزید پڑھیے

سانولی

کتنے الفاظ ہیں جو مری انگلیوں کے ہر اک پور میں اک سمندر کی مانند بند ہیں سمندر بہت ہی غصیلا سمندر سمندر وہ جو منتظر ہے کہ کب تیرے ہونٹوں کے دونوں سرے مسکراہٹ کی کوشش میں کھچنے لگیں اور رخسار میں پیچ و خم ڈال دیں ایک شاعر جو آنکھیں مسلنے لگے تو ہنسے اور سمندر ابلنے لگے

مزید پڑھیے

ہوس

کچھ بوندوں نے مل کر میری ہتھیلی پر چھوٹی سی ایک جھیل بنائی جس میں پورے چاند کا عکس اتر آیا وحشی من نے اکسایا چاند کو میں نے قید کر لیا مٹھی میں سارا پانی پھسل گیا چاند میرے قبضے سے نکل گیا

مزید پڑھیے

مجھ کو آج نہ سونے دینا

در مت کھولو نیند کو اندر مت آنے دو ورنہ اس کی انگلیاں چھیڑیں گی اس البم کے صفحے جس میں تصویریں ہیں کل کے کچھ آسیبوں کی ذکر چھڑے گا ان اوقات کا دفن ہیں جن میں سب میری ناکام امیدیں میری بے جا کاوش میرے سلگتے ارماں پھر بھڑکے گی آگ پھر جھلسے گا آج کا دامن پھر فردا سے ناطہ توڑنے والی ...

مزید پڑھیے

سیلن

ہم نے اپنے ساتھ کی آخری شب بوڑھے پیڑ کی جھینی چھتری کے نیچے چاند کی بھیگی بھیگی کرنوں کے ساتھ بتائی تھی میں نے اپنے اشکوں کا رخ موڑ دیا تھا تم نے پلکوں سے دو موتی میرے کندھے پر ٹانک دئے تھے اور ماتھے پر کبھی نہ مٹنے والی مہر لگائی تھی ایک گیلے بوسے کی اگلی شب اس پیڑ کے نیچے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 120 سے 960