خدا قہقہہ لگاتا ہے
غزوۂ خندق کا سفر زبان کی خندق تک آ پہنچا لیکن سازشیں ہتھیائی نہیں جا سکیں ابلیس کی معیت میں نماز حاجات ادا کرنے والے ہتھیلیوں میں جنت بھر کے کہتے ہیں خدایا یہ دودھ اور شہد کی نہریں کس کے لئے بچا رکھی ہیں تیری زمین پہ تو اب کچرے کے ڈھیر سے رزق نہیں انسانی کھلونے ملتے ہیں ظالموں ...