شاعری

تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے

تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے ہم چاند اٹھائے ہوئے پانی سے نکلتے خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے مہلت ہی نہ دی گردش افلاک نے ہم کو کیا سلسلۂ نقل مکانی سے نکلتے اک عمر لگی تیری کشادہ نظری میں اس تنگئ داماں کو گرانی سے نکلتے بس ایک ہی موسم کا ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھے

ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھے جیسے اب کے چڑھے ہوئے تھے دریا دیکھنے والے تھے آج تو شام ہی سے آنکھوں میں نیند نے خیمے گاڑ دیئے ہم تو دن نکلے تک تیرا رستہ دیکھنے والے تھے اک دستک کی رم جھم نے اندیشوں کے در کھول دیئے رات اگر ہم سو جاتے تو سپنا دیکھنے والے تھے ایک ...

مزید پڑھیے

نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہے

نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہے مگر وہ ہے کہ مسلسل دیئے جلاتا ہے کبھی سفر کبھی رخت سفر گنواتا ہے پھر اس کے بعد کوئی راستہ بناتا ہے یہ لوگ عشق میں سچے نہیں ہیں ورنہ ہجر نہ ابتدا نہ کہیں انتہا میں آتا ہے یہ کون ہے جو دکھائی نہیں دیا اب تک اور ایک عمر سے اپنی طرف بلاتا ہے وہ کون ...

مزید پڑھیے

وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھا

وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھا تو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھا یہ جو شاخ لب پہ ہجوم رنگ صدا کھلا ہے گلی گلی کہیں کوئی شعلۂ بے نوا کسی قتل گاہ میں جل بجھا جو کتاب عشق کے باب تھے تری دسترس میں بکھر گئے وہ جو عہد نامۂ خواب تھا وہ مری نگاہ میں جل ...

مزید پڑھیے

مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتے

مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتے ہم مارے گئے ٹوٹے ہوئے تیر اٹھاتے مامور تھیں سورج کی گواہی پہ ہوائیں پھر سائے کہاں دھوپ کی جاگیر اٹھاتے تجھ تک بھی پہنچنے کے لیے وقت نہیں تھا کب دولت دنیا ترے رہگیر اٹھاتے بس ایک ہی خواہش سر مقتل ہمیں یاد آئی زنداں سے نکلتے ہوئے زنجیر ...

مزید پڑھیے

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم ...

مزید پڑھیے

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے اب تو انعام دیا جاتا ہے غداری پر تیری ...

مزید پڑھیے

وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی

وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی اس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کی اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے ہم ہم نے پہلے بھی محبت میں سیاست نہیں کی تم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے تم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سمٹ آئی تھیں وہ بھی ...

مزید پڑھیے

وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھ

وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھ کیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھ صرف زنداں کی حکایت ہی پہ معمور نہیں ایک تاریخ سفر کرتی ہے زنجیر کے ساتھ اب کے سورج کی رہائی میں بڑی دیر لگی ورنہ میں گھر سے نکلتا نہیں تاخیر کے ساتھ تجھ کو قسمت سے تو میں جیت چکا ہوں کب کا شاید اب کے ...

مزید پڑھیے

طلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھا

طلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھا مرا ہی دیکھا ہوا خواب میرے سامنے تھا وہی نہیں تھا جسے دل تلک رسائی تھی کہ یوں تو مجمع احباب میرے سامنے تھا تمام عمر ستارے تلاش کرتا پھرا پلٹ کے دیکھا تو مہتاب میرے سامنے تھا میں اک صدا کے تحیر میں گھر گیا ورنہ کنارا سامنے گرداب میرے سامنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 985 سے 4657