شاعری

غم ہوں جو اپنے آپ میں رستا دکھائی دے

غم ہوں جو اپنے آپ میں رستا دکھائی دے دریا میں ڈوب کر ہی کنارا دکھائی دے دیکھو جو غور سے کبھی چہروں کی وحشتیں آبادیوں میں بھی تمہیں صحرا دکھائی دے سورج کی روشنی میں کبھی اپنی سمت دیکھ تاریکیوں میں کیا تجھے سایہ دکھائی دے نظروں میں بس گیا مرے دل میں اتر گیا صورت سے اجنبی کہ جو ...

مزید پڑھیے

دھواں دھواں ہیں نگاہوں کی بستیاں کیا کیا

دھواں دھواں ہیں نگاہوں کی بستیاں کیا کیا چمک رہی ہیں خیالوں کی بجلیاں کیا کیا بھنور کی آنکھ سے تکتے ہی رہ گئے طوفاں پہنچ گئی ہیں کناروں پہ کشتیاں کیا کیا ملے گی میری بھی کشت نظر کو سیرابی ہر ایک سمت اچھلتی ہیں ندیاں کیا کیا مری نگاہ کے دامن کو کھینچ لیتی ہیں ترے خیال کی گل پوش ...

مزید پڑھیے

لفظ ناگن کی طرح ڈستے ہیں گویائی میں

لفظ ناگن کی طرح ڈستے ہیں گویائی میں خامشی زہر ملا دیتی ہے تنہائی میں دل کی باتوں کو زباں پر نہیں آنے دیتے کتنی زنجیریں نظر آتی ہیں یکجائی میں ٹھہرے پانی میں گرا سنگ روانی کوئی چاہیے تازہ ہوا روح کی گہرائی میں کیا نظر آئے گا موسم کے نشے میں تجھ کو کتنے پتے ہیں کہ اڑ جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

زخم سینے پہ لگا آنکھ سے آنسو نکلے

زخم سینے پہ لگا آنکھ سے آنسو نکلے غم کی آہٹ سے کئی درد کے آہو نکلے حلقۂ ریگ رواں دشت کے دریا کا بھنور وحشت دل کے سفینے میں اگر تو نکلے بد گمانی کی نگاہوں سے جو دیکھا ہے تجھے تیری ہر بات میں سو طرح کے پہلو نکلے مہک اٹھے یہ بیاباں بھی گلستاں کی طرح قید گلزار سے آزاد جو خوشبو ...

مزید پڑھیے

ملتا نہیں کوئی بھی خریدار عشق میں

ملتا نہیں کوئی بھی خریدار عشق میں رسوا ہوئے ہیں بر سر بازار عشق میں منزل ملی نہ مرحلۂ دل ہی طے ہوا دشت جنوں کو جانئے دیوار عشق میں اس نافۂ نگاہ سے پاگل ہوئے تو کیا زنجیر ہے یہ درد کا آزاد عشق میں اب تک ترے خیال سے نمناک ہے یہ آنکھ صرف اس قدر ہوا ہوں گنہ گار عشق میں فریاد کر رہا ...

مزید پڑھیے

بدن کو پھونکتی ہیں نغمہ خوانیاں پیارے

بدن کو پھونکتی ہیں نغمہ خوانیاں پیارے سرود عشق نہ چھیڑیں جوانیاں پیارے یہ برگ زرد کہ بکھرے پڑے ہیں راہوں میں یہی ہیں موسم گل کی نشانیاں پیارے قدم قدم غم ہجراں کی بے پناہی میں سنا رہی ہے محبت کہانیاں پیارے کوئی امید نہ ہوتی تو جی بہل جاتا رلا رہی ہیں تری مہربانیاں پیارے چراغ ...

مزید پڑھیے

دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گا

دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گا دور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گا اپنے اطراف نیا شہر بساؤں گا کبھی اور اک شخص کو پھر اس کی حکومت دوں گا اک دیا نیند کی آغوش میں جلتا ہے کہیں سلسلہ خواب کا ٹوٹے تو بشارت دوں گا قصۂ سود و زیاں وقف مدارات ہوا پھر کسی روز ملاقات کی زحمت دوں گا میں ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کون

کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کون جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کون تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے پھر پس دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون بس تری بیچارگی ہم سے نہیں دیکھی گئی ورنہ ہاتھ آئی ہوئی دولت کو یوں کھوتا ہے کون کون یہ پاتال سے لے کر ابھرتا ہے ...

مزید پڑھیے

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا مداوا ہو نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 984 سے 4657