غم ہوں جو اپنے آپ میں رستا دکھائی دے
غم ہوں جو اپنے آپ میں رستا دکھائی دے دریا میں ڈوب کر ہی کنارا دکھائی دے دیکھو جو غور سے کبھی چہروں کی وحشتیں آبادیوں میں بھی تمہیں صحرا دکھائی دے سورج کی روشنی میں کبھی اپنی سمت دیکھ تاریکیوں میں کیا تجھے سایہ دکھائی دے نظروں میں بس گیا مرے دل میں اتر گیا صورت سے اجنبی کہ جو ...