شاعری

جب سے اپنے آپ کو پہچانتا ہوں میں

جب سے اپنے آپ کو پہچانتا ہوں میں پردے میں ہر لباس کے عریاں ہوا ہوں میں مجھ سے ملو کہ میں ہوں زمانے کی روشنی ظلمت میں آفتاب کی صورت پڑا ہوں میں آنکھیں بھی ہوں تو دیکھنا آساں نہیں مجھے تابانیوں کی کہر میں ڈوبا ہوا ہوں میں اب اپنی شکل ڈھونڈھتا پھرتا ہوں چار سو طوفان صد نگاہ میں گم ...

مزید پڑھیے

جدا کیا ہو گئے تم سے نہ پھر یکجا ہوئے خود سے

جدا کیا ہو گئے تم سے نہ پھر یکجا ہوئے خود سے ملا وہ اختیار آخر کہ ہم تنہا ہوئے خود سے تہ آب دل و جاں موتیوں کی طرح رہتے ہیں جو منظر اس جہان خاک میں پیدا ہوئے خود سے چھپا لیتے تری صورت ہم اپنی آنکھ میں دل میں لب گویا کے ہاتھوں کس لئے رسوا ہوئے خود سے اڑی وہ خاک دل صورت نظر آتی نہیں ...

مزید پڑھیے

دلوں میں حبس کا عالم پرانی عادتوں سے ہے

دلوں میں حبس کا عالم پرانی عادتوں سے ہے لبوں پر تلخیوں کا زہر بگڑے ذائقوں سے ہے جو اجڑا شہر خوابوں کا تو اپنی بھی اڑی ہے گرد کسی سوکھے ہوئے دریا کی صورت مدتوں سے ہے یہ کالی رات کا دریا بہا کر لے گیا سورج ہراساں صبح کے ساحل پہ دل تاریکیوں سے ہے مہکتے پھول بھی ڈسنے لگے ہیں سانپ کی ...

مزید پڑھیے

غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا

غم کی بے پناہی میں دل نے حوصلہ پایا تیرگی کے جنگل میں چشمۂ ضیا پایا آفتاب کا پیکر بن گیا بدن اپنا روشنی میں سائے کا سحر ٹوٹتا پایا کھل گئی جو آنکھ اپنی وقت کی صدا سن کر ان گنت جہانوں کا در کھلا ہوا پایا ہر قدم پہ ساتھ اپنے خود کو دیکھتے ہیں ہم ہم سفر کوئی اپنا اب نہ دوسرا ...

مزید پڑھیے

ابر کا ٹکڑا ہو جیسے چاند پر ٹھہرا ہوا

ابر کا ٹکڑا ہو جیسے چاند پر ٹھہرا ہوا یوں ترے مکھڑے پہ زلفوں کا گھنا سایہ ہوا قرب کی لذت سے آنکھوں میں گھٹا سی چھا گئی اور یہ دل ہے شرابی کی طرح بہکا ہوا دل سمجھتا ہے تری رفتار کے اسلوب کو تو ابھی آیا نہیں اور حشر سا برپا ہوا آشنائی کی ہوا دل کے چمن میں کیا چلی ہر گل منظر نظر آیا ...

مزید پڑھیے

گھر کی دیواروں کو ہم نے اور اونچا کر لیا

گھر کی دیواروں کو ہم نے اور اونچا کر لیا شور صد محشر سنا اور خود کو بہرا کر لیا بند نافہ کی طرح رہتے ہیں اپنے آپ میں اپنی خوشبو سے معطر دل کا صحرا کر لیا درد مہجوری کا آئینہ ہے اپنے روبرو جب نظر آیا نہ تو اپنا تماشا کر لیا در پہ ہر امید کے پھیلا دیا دامان دل کج کلاہ زندگی نے خود ...

مزید پڑھیے

جس کو دیکھو وہی آوارہ و سودائی ہے

جس کو دیکھو وہی آوارہ و سودائی ہے زندگی ہے کہ کسی دشت کی پہنائی ہے شعلۂ غم کو رگ جاں میں کیا جذب تو پھر ہر نظر صورت خورشید نظر آئی ہے ڈوب کر دل میں ابھرتی ہے کوئی موج خیال ابر چھایا ہے کبھی برق سی لہرائی ہے گیت کے روپ میں پابند بہاروں کی فضا چمن دل میں مرے اور نکھر آئی ہے لذت ...

مزید پڑھیے

رہ گیا انساں اکیلا بستیوں کے درمیاں

رہ گیا انساں اکیلا بستیوں کے درمیاں گم ہوا سورج خود اپنی تابشوں کے درمیاں ہاتھ لگتے ہی بکھر جاتے ہیں رنگوں کی طرح پھول سے پیکر سمے کی آندھیوں کے درمیاں روح کی اندھی گلی میں چیختا ہے رات دن جسم کا زخمی پرندہ خواہشوں کے درمیاں بن گیا زنجیر میرے پاؤں کی میرا وجود قید ہے دریا بھی ...

مزید پڑھیے

اوجھل ہوں نگاہوں سے مگر دل میں پڑے ہو

اوجھل ہوں نگاہوں سے مگر دل میں پڑے ہو لیلیٰ کی طرح کون سے محمل میں پڑے ہو در پردہ سہی سحر نظارہ کے اثر سے سو طرح سے تم دیدۂ غافل میں پڑے ہو کھلنے لگے اسرار وفا دیدہ و دل پر جس دن سے غم ہجر کی مشکل میں پڑے ہو آوارگئ دل بھی گئی قید وفا بھی جس دن سے محبت کے سلاسل میں پڑے ہو ہر لحظہ ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی کر پائے نہ ہم ہجر کی حیرانی میں

کچھ بھی کر پائے نہ ہم ہجر کی حیرانی میں گھر بھی ویران کیا دل کی پریشانی میں رنگ ہی رنگ ہیں بکھرے ہوئے دامن میں مرے رچ گیا ہے مری آنکھوں کا لہو پانی میں جسم اپنا بھی مہکتا ہوا گلزار لگا پھر ترے غم کی ہوا آئی ہے جولانی میں یوں نگاہوں میں اترنے لگے یادوں کے نجوم درد بھی محو ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 983 سے 4657