جب سے اپنے آپ کو پہچانتا ہوں میں
جب سے اپنے آپ کو پہچانتا ہوں میں پردے میں ہر لباس کے عریاں ہوا ہوں میں مجھ سے ملو کہ میں ہوں زمانے کی روشنی ظلمت میں آفتاب کی صورت پڑا ہوں میں آنکھیں بھی ہوں تو دیکھنا آساں نہیں مجھے تابانیوں کی کہر میں ڈوبا ہوا ہوں میں اب اپنی شکل ڈھونڈھتا پھرتا ہوں چار سو طوفان صد نگاہ میں گم ...