ہم تو یوں الجھے کہ بھولے آپ ہی اپنا خیال
ہم تو یوں الجھے کہ بھولے آپ ہی اپنا خیال ہاں کوئی ہوتا بھی ہوگا بھولنے والا خیال ایک پتھر کی طرح سے ڈوبتا جاتا ہے دل ہو رہا ہے اور گہرا اور بھی گہرا خیال آب حیراں پر کسی کا عکس جیسے جم گیا آنکھ میں بس ایک لمحے کے لئے ٹھہرا خیال پھر تو کب اپنے رہے کب کار دنیا کے رہے جب سے ہم پر چھا ...