شاعری

ہم تو یوں الجھے کہ بھولے آپ ہی اپنا خیال

ہم تو یوں الجھے کہ بھولے آپ ہی اپنا خیال ہاں کوئی ہوتا بھی ہوگا بھولنے والا خیال ایک پتھر کی طرح سے ڈوبتا جاتا ہے دل ہو رہا ہے اور گہرا اور بھی گہرا خیال آب حیراں پر کسی کا عکس جیسے جم گیا آنکھ میں بس ایک لمحے کے لئے ٹھہرا خیال پھر تو کب اپنے رہے کب کار دنیا کے رہے جب سے ہم پر چھا ...

مزید پڑھیے

دل رہے گا یوں ہی بیتاب نظر آتا ہے

دل رہے گا یوں ہی بیتاب نظر آتا ہے جاگنے پر بھی وہی خواب نظر آتا ہے سامنے دیکھوں تو پڑتا ہے مرے دل پہ وہ عکس مڑ کے دیکھوں تو وہ مہتاب نظر آتا ہے کھائے جاتا ہے مرے باغ کے ہر پیڑ کو گھن دور ہی دور سے شاداب نظر آتا ہے غسل کے واسطے شبنم نہیں ہوگی کافی سایۂ گل جو تہہ آب نظر آتا ہے ہے ...

مزید پڑھیے

چند گلے بھلا دئے چند سے درگزر کیا

چند گلے بھلا دئے چند سے درگزر کیا قصۂ غم طویل تھا جان کے مختصر کیا جھوٹ نہیں تھا عشق بھی زیست بھی تھی تجھے عزیز میں نے بھی اپنی عمر کو اپنے لیے بسر کیا جیسے بھی تیرے خواب ہوں جو بھی ترے سراب ہوں میں نے تو ریت اوڑھ لی میں نے تو کم سفر کیا تیری نگاہ ناز کا لطف و گریز ایک ساتھ شوق ...

مزید پڑھیے

خشک ہو گئیں نہریں پیڑ جل چکے ہیں کیا

خشک ہو گئیں نہریں پیڑ جل چکے ہیں کیا کچھ چمن تھے رستے میں دشت ہو گئے ہیں کیا ایک ایک سے پوچھا ہم نے ایک وحشت میں زندگی کے بارے میں آپ جانتے ہیں کیا التفات مشکل ہے بات تو کیا کیجے ہم نہیں برے اتنے اتنے ہی برے ہیں کیا اپنی زندگانی کو اور رائیگانی کو ہم اٹھائے پھرتے ہیں لوگ دیکھتے ...

مزید پڑھیے

شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی

شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی خاک کی لوح پہ لکھا تو گیا نام مرا اصل مقصود ترا مجھ کو مٹانا ہی سہی خواب عریاں تو اسی طرح تر و تازہ ہے ہاں مری نیند کا ملبوس پرانا ہی سہی ایک اڑتے ہوئے سیارے کے پیچھے پیچھے کوئی امکان کوئی شوق روانہ ہی سہی کیا ...

مزید پڑھیے

تو بھی رخصت ہو رہا ہے دھوپ بھی ڈھلنے کو ہے

تو بھی رخصت ہو رہا ہے دھوپ بھی ڈھلنے کو ہے میرے اندر اک چراغ شام غم جلنے کو ہے کب تلک اس ہجر میں آخر کو رونا چاہیے آنکھ بھی خوں ہو گئی دامن بھی اب گلنے کو ہے گلستاں میں پڑ گئی ہے رسم تجسیم بہار اپنے چہرے پر ہر اک گل خون دل ملنے کو ہے اجنبی سی سرزمیں ناآشنا سے لوگ ہیں ایک سورج تھا ...

مزید پڑھیے

ہوں پارسا ترے پہلو میں شب گزار کے بھی

ہوں پارسا ترے پہلو میں شب گزار کے بھی میں بے لباس نہیں پیرہن اتار کے بھی ہر ایک سر کو بلندی عطا نہیں کرتے اصول ہوتے ہیں کچھ تو صلیب و دار کے بھی ہمارے عکس بھی دھندھلے ہوئے تو ہم سمجھے کہ آئینوں سے ہیں رشتے یہاں غبار کے بھی نہ آبلوں سے ہے رغبت نہ پاؤں سے رنجش عجب سلوک ہیں میدان ...

مزید پڑھیے

اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے

اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے وہ گھٹن ہی مری سانسوں پہ مقرر ہوئی ہے آج رکھے ہیں قدم اس نے مری چوکھٹ پر آج دہلیز مری چھت کے برابر ہوئی ہے نیند نے نیند سے چونکا کے اٹھایا مجھ کو خواب میں خواب کی تعبیر اجاگر ہوئی ہے اس نے راتوں کے تقدس کو کیا ہے مجروح ایک مٹھی بھی جسے دھوپ ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا

کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا خوب پرکھا ہے مجھے تب اعتبار اس نے کیا بے حجاب نفس تھا وہ یا کوئی غافل بدن پیرہن جو بھی دیا ہے تار تار اس نے کیا آج پھر اپنی سماعت سونپ دی اس نے ہمیں آج پھر لہجہ ہمارا اختیار اس نے کیا صرف اک عکس وفا پر ہی نہیں ڈالی ہے خاک آئینہ سازوں کو بھی ...

مزید پڑھیے

غم حیات مٹانا ہے رو کے دیکھتے ہیں

غم حیات مٹانا ہے رو کے دیکھتے ہیں لہو کا داغ لہو سے ہی دھو کے دیکھتے ہیں عطش کی نیند بہت بڑھ گئی ہے آنکھوں میں چلو فرات کی باہوں میں سو کے دیکھتے ہیں ہمیں ہمارے علاوہ بھی جانتا ہے کوئی وراثتوں کی یہ پہچان کھو کے دیکھتے ہیں تمام عمر بہت روئے زندگی کے لئے اب اپنی لاش پہ کچھ دیر رو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 963 سے 4657